پڑھیے› دفتر ۵› اس درویش کی حکایت جس نے ہری میں عمید خراسان کے آراستہ غلاموں کو دیکھا جو تازی گھوڑوں پر، زربفت قباء پہنے اور مرصع ٹوپیاں اوڑھے ہوئے تھے، وغیرہ۔ اس نے پوچھا کہ یہ کون سے امیر اور کون سے بادشاہ ہیں؟ اسے بتایا گیا کہ یہ امیر نہیں ہیں، یہ عمید خراسان کے غلام ہیں۔ اس نے آسمان کی طرف منہ کیا اور کہا: اے خدا، عمید سے غلام پرورشی سیکھ۔ وہاں مستوفی کو عمید کہتے ہیں۔› بیت ۳۱۷۵
M5:3175 — زانک میبافی همهساله بپوش / زانک میکاری همه ساله بنوش
M5:3175
شرحِ سروش — ان کے ریکارڈ شدہ مثنوی لیکچرز سے
شرح
جلسهٔ 09 — [01:39:59] پرسش و پاسخ: بیصورتی و جسمانیت در معاد
تفسیر عذاب رو اینجوری میکنه دیگه. میگه این نیشی که اینجا به مردم میزنی، فردا میشه یه عقربی که تو رو نیش میزنه.
همونی که برای دیگران، پاپوشی که درست میکنی، اونجا میشه پاپوش تو. یعنی یه کفش مثلاً آتشی میشود و امثال اینها. یا مثلاً در مورد جهنم که خب اون خیلی حرفهای مهمی داره:
به زبانِ تو — آپ کی زبان · AI
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.