پڑھیے› دفتر ۶› چوہے کا مینڈک سے التجا کرنا کہ بہانے نہ سوچو اور اس حاجت کو پورا کرنے میں تاخیر نہ کرو کہ تاخیر میں آفات ہیں اور صوفی ابن الوقت ہے، اور باپ اپنے بچے کا دامن نہیں چھوڑتا، اور شفیق باپ صوفی ہے کہ وقت اسے کل کا محتاج نہیں کرتا، اسے اپنے سریع الحسابی کے گلزار میں اتنا غرق رکھتا ہے کہ وہ عوام کی طرح مستقبل کا انتظار نہیں کرتا، وہ ایک نہر ہے نہ کہ ایک زمانہ کہ اللہ کے ہاں نہ صبح ہے نہ شام، ماضی اور مستقبل اور ازل و ابد وہاں نہیں ہیں، آدم سابق اور دجال مسبوق نہیں ہیں کیونکہ یہ رسومات جزوی عقل کی حدود میں ہیں اور لا مکان و لا زمان کے عالم میں یہ رسومات نہیں ہوتیں، پس وہ ابن وقت ہے کہ اس سے زمانوں کی تفریق کی نفی کے علاوہ کچھ نہیں سمجھا جاتا جیسے اللہ واحد سے دوئی کی نفی سمجھ میں آتی ہے نہ کہ واحدیت کی حقیقت› بیت ۲۸۰۵
M6:2805 — چشم بد را چشم نیکویت شها / مات و مستاصل کند نعم الدوا
M6:2805
معنی و شرح · به زبانِ تو — آپ کی زبان · AI
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.