پڑھیے دفتر ۶ صدر جہاں بخارا کا قصہ کہ ہر سوال کرنے والا جو زبان سے صدقہ عام بے دریغ مانگتا تھا وہ محروم رہتا تھا، اور وہ غریب عالم فراموشی اور حد سے زیادہ حرص اور جلد بازی میں صدر جہاں کے جلوس میں اس سے زبان سے مانگ بیٹھا تو اس نے اس سے منہ پھیر لیا، اور وہ ہر روز نئی ترکیب بناتا، کبھی خود کو چادر اوڑھ کر عورت بناتا اور کبھی اندھا بناتا اور اپنی آنکھیں اور چہرہ ڈھانپ لیتا تھا لیکن وہ اپنی فراست سے اسے پہچان لیتا تھا وغیرہ بیت ۳۸۲۶

M6:3826 — هیچ مگشا لب نشین و می‌نگر / تا کند صدر جهان اینجا گذر

هیچ مگشا لب نشین و می‌نگرتا کند صدر جهان اینجا گذر
✦ اس بیت کو اردو میں پیش کریں

M6:3826

❋ ❋ ❋

معنی و شرح · به زبانِ تو — آپ کی زبان · AI

Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited

Your conversation stays on this device unless you share it.

What readers asked

No questions shared yet — yours could be the first.