پڑھیے› دفتر ۶› امرؤ القیس کا قصہ کہ وہ عرب کا بادشاہ تھا اور صورت میں بے حد خوبصورت تھا، اپنے وقت کا یوسف تھا، اور عرب کی عورتیں زلیخا کی طرح اس پر مرتی تھیں، اور وہ ایک فطری شاعر تھا 'قف نبک من ذکری حبیب و منزل'، جب تمام عورتیں اسے جان سے چاہتی تھیں تو حیرت ہے کہ اس کی غزل اور اس کا نالہ کس لیے تھا؟ شاید وہ جانتا تھا کہ یہ سب ایک صورتی تمثال ہیں جو خاک کی تختوں پر نقش کیے گئے ہیں، آخر کار اس امرؤ القیس پر ایک ایسا حال آیا کہ آدھی رات کو ملک اور اولاد سے بھاگ گیا اور خود کو ایک چادر میں چھپا لیا اور اس علاقے سے دوسرے علاقے میں چلا گیا اس کی تلاش میں جو ہر علاقے سے پاک ہے 'یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ یَشَاءُ' وغیرہ› بیت ۴۰۲۷
M6:4027 — ور بگفتی دوش دیگی پختهاند / یا حوایج از پزش یک لختهاند
M6:4027
معنی و شرح · به زبانِ تو — آپ کی زبان · AI
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.