دیوانِ شمس› غزل ۱۷۶۸› بیت ۱ اگلا ←
دیوانِ شمس · غزل شمارهٔ ۱۷۶۸
- چند قبا بر قد دل دوختم چند چراغ خرد افروختم
G1768:1
آپ کی زبان
آپ کی زبان میں ابھی کوئی مفہوم دستیاب نہیں — یہ پوری غزل کے لیے ایک ساتھ تیار کیا جاتا ہے:
ai-draft · gemini-2.5-pro
اس بیت کی شرح
ابھی لکھی نہیں گئی — اس غزل کے سیاق میں اس بیت کا گہرا مطالعہ:
پوری غزل ↗
- 1 چند قبا بر قد دل دوختم·چند چراغ خرد افروختم
- 2 پیر فلک را که قراریش نیست·گردش بس بوالعجب آموختم
- 3 گنج کرم آمد مهمان من·وام فقیران ز کرم توختم
- 4 حاصل از این سه سخنم بیش نیست·سوختم و سوختم و سوختم
- 5 بر مثل شمعم من پاکباز·ریختم آن دخل که اندوختم
- 6 بس که بسی نکته عیسی جان·در دل و در گوش خر اسپوختم
- 7 بس که اذا تم دنا نقصه·تا بنگوید صنم شوخ تم
ganjoor: sh1768 · public domain