دیوانِ شمس› غزل ۲۶۲› بیت ۲ → پچھلا · اگلا ←
دیوانِ شمس · غزل شمارهٔ ۲۶۲
- ان تدننا طوبی لنا ان تحفنا یا ویلنا یا نور ضؤ ناظرا یا خاطرا مخاطرا
G262:2
آپ کی زبان
آپ کی زبان میں ابھی کوئی مفہوم دستیاب نہیں — یہ پوری غزل کے لیے ایک ساتھ تیار کیا جاتا ہے:
ai-draft · gemini-2.5-pro
اس بیت کی شرح
ابھی لکھی نہیں گئی — اس غزل کے سیاق میں اس بیت کا گہرا مطالعہ:
پوری غزل ↗
- 1 فیما تری فیما تری یا من یری و لا یری·العیش فی اکنافنا و الموت فی ارکاننا
- 2 ان تدننا طوبی لنا ان تحفنا یا ویلنا·یا نور ضؤ ناظرا یا خاطرا مخاطرا
- 3 ندعوک ربا حاضرا من قلبنا تفاخرا·فکن لنا فی ذلنا برا کریما غافرا
- 4 من میروم توکلی در این ره و در این سرا·اگر نوالهای رسد نیمی مرا نیمی تو را
- 5 خود کی رود کشتی در او که او تهی بیرون رود·کیل گهر همیرسد بر مشتری و مشترا
- 6 کیل گهر همیرسد قرص قمر همیرسد·نور بصر همیرسد اندکترین چیزها
- 7 خوش اندرآ در انجمن جز بر شکر لگد مزن·جز بر قرابیها مزن جر بر بتان جان فزا
ganjoor: sh262 · public domain