پڑھیے دفتر ۶ حصہ ۳۲ → پچھلا · اگلا ←

بخش ۳۲ - قصهٔ هلال کی بندهٔ مخلص بود خدای را صاحب بصیرت بی‌تقلید پنهان شده در بندگی مخلوقان جهت مصلحت نه از عجز چنانک لقمان و یوسف از روی ظاهر و غیر ایشان بندهٔ سایس بود امیری را و آن امیر مسلمان بود اما چشم بسته داند اعمی که مادری دارد لیک چونی بوهم در نارد اگر با این دانش تعظیم این مادر کند ممکن بود کی از عمی خلاص یابد کی اذا اراد الله به عبد خیرا فتح عینی قلبه لیبصره بهما الغیب این راه ز زندگی دل حاصل کن کین زندگی تن صفت حیوانست

ہلال کا قصہ جو اللہ کا مخلص بندہ تھا، تقلید کے بغیر بصیرت والا، مخلوق کی بندگی میں مصلحت کی خاطر چھپا ہوا تھا نہ کہ عاجزی کی وجہ سے، جیسے ظاہر میں لقمان اور یوسف اور ان کے علاوہ بھی، وہ ایک امیر کا خادم تھا اور وہ امیر مسلمان تھا لیکن آنکھ بند کر کے جانتا تھا کہ اس کی ماں ہے لیکن کیسی ہے یہ وہم میں نہیں لاتا تھا، اگر اس علم کے ساتھ اس ماں کی تعظیم کرے تو ممکن ہے کہ اندھے پن سے نجات پائے کہ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِعَبْدٍ خَیۡرًا فَتَحَ عَیۡنَیۡ قَلْبِهٖ لِیُبْصِرَهٗ بِهِمَا الْغَیْبَ (جب اللہ کسی بندے سے بھلائی چاہتا ہے تو اس کے دل کی دونوں آنکھیں کھول دیتا ہے تاکہ وہ ان سے غیب کو دیکھ سکے)، یہ راستہ دل کی زندگی سے حاصل کرو کیونکہ یہ جسم کی زندگی حیوان کی صفت ہے

  1. M6:1111 چون شنیدی بعضی اوصاف بلالبشنو اکنون قصهٔ ضعف هلال
  2. M6:1112 از بلال او بیش بود اندر روشخوی بد را بیش کرده بد کشش
  3. M6:1113 نه چو تو پس‌رو که هر دم پس‌تریسوی سنگی می‌روی از گوهری
  4. M6:1114 آن‌چنان کان خواجه را مهمان رسیدخواجه از ایام و سالش بر رسید
  5. M6:1115 گفت عمرت چند سالست ای پسربازگو و در مدزد و بر شمر
  6. M6:1116 گفت هجده هفده یا خود شانزدهیا که پانزده ای برادرخوانده
  7. M6:1117 گفت واپس واپس ای خیره سرتباز می‌رو تا بکس مادرت