閱讀› 卷 1› 解釋「我們從小聖戰歸來,進入大聖戰」› 詩聯 1388
M1:1388 — چونک جزو دوزخست این نَفس ما / طبع کل دارد همیشه جزوها
M1:1388
含義 · به زبانِ تو — 您的語言 · AI
چونکہ ہمارا نفس دوزخ کا ایک حصہ ہے، اس لیے اس کی فطرت بھی دوزخ جیسی ہے، کیونکہ ہر جزو اپنے کُل کی خاصیت رکھتا ہے۔
مولانا رومی یہاں ”جہادِ اکبر“ یعنی نفس کے خلاف جنگ کی وضاحت کر رہے ہیں۔ اس سے پچھلے اشعار میں انہوں نے دوزخ کی مثال دی ہے جو ایک ایسے اژدھے کی طرح ہے جس کی بھوک کبھی نہیں مٹتی۔ وہ سات سمندر، پتھر اور گناہگاروں کو نگلنے کے بعد بھی مزید مانگتی ہے (هَلْ مِنْ مَزید) اور صرف اُسی وقت پُرسکون ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ اس پر اپنا قدمِ قدرت رکھتا ہے۔
اس شعر میں مولانا اس کائناتی مثال کو انسان کے باطن پر لاگو کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا نفس (انانیت، حیوانی خواہشات) اسی جہنم کا ایک جزو یا ایک چنگاری ہے۔ فلسفے اور تصوف کا ایک بنیادی اصول ہے کہ جزو ہمیشہ اپنے کُل کی صفات اور فطرت کا حامل ہوتا ہے۔ لہٰذا، جس طرح دوزخ کی آگ بھڑکتی رہتی ہے اور وہ ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لینا چاہتی ہے، اسی طرح انسان کا نفس بھی خواہشات، حرص اور غضب میں ہمیشہ جلتا رہتا ہے اور کبھی سیر نہیں ہوتا۔
اس تمثیل کا گہرا نکتہ یہ ہے کہ جس طرح دوزخ کو اللہ کے سوا کوئی قابو نہیں کر سکتا، اسی طرح نفسِ امّارہ کی آگ کو بھی انسان اپنی عقل یا کوشش سے نہیں بجھا سکتا۔ اس پر قابو پانے کے لیے بھی اللہ کی مدد، توفیق اور اس کے نور کی ضرورت ہے، جو کہ جہادِ اکبر کی اصل حقیقت ہے۔
- نَفس
- انسان کی ذات کا وہ حصہ جو حیوانی خواہشات، شہوت اور غضب کا مرکز ہے۔ صوفیانہ اصطلاح میں اسے روحانی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔
- طبعِ کل
- کُل کی فطرت یا خاصیت۔ یہاں مراد دوزخ کی نہ بجھنے والی آگ اور بھوک ہے۔
- جزوها
- اجزاء، حصے۔ 'جزو' کی جمع۔
我们的“纳夫斯”(Nafs,即“自我”或“本我”)是地狱的一个碎片,因此它具备地狱那永不满足、吞噬一切的本质。
这句诗出自鲁米对圣训“我们已从较小的圣战(جهاد اصغر)转向了更大的圣战(جهاد اکبر)”的阐释。他将这“更大的圣战”定义为与内在“纳夫斯”(Nafs)——即人的欲望、激情和自我中心的本我——的斗争。
鲁米将“纳夫斯”比作地狱本身。正如地狱吞噬无数罪人却永不满足,高喊着“还有吗?”(هل من مزید),“纳夫斯”的欲望也永无止境。它会吞噬整个世界,却依然饥渴。这句诗的核心论点是哲学上的“部分蕴含全体”(the part has the nature of the whole)。既然“纳夫斯”是地狱的一部分,它就必然带有地狱的根本属性:贪得无厌、极具破坏性。因此,人内在的斗争,其艰巨程度不亚于面对真正的地狱之火。
这句诗起到了承上启下的作用。它总结了前文对“纳夫斯”如地狱般贪婪的描绘,并为后文的结论——只有神的力量(诗中喻为“神的脚步”)才能最终平息这内在的地狱——奠定了基础。这强调了在苏菲修行中,战胜自我并非仅凭个人意志,而根本上需要神的介入与恩典。
- نَفس
- (Nafs)阿拉伯语借词,在苏菲主义中指人的“自我”、“本我”或“灵魂的低级层面”,是欲望、激情和自我主义的源头,被视为内在修行的主要战场。
- دوزخ
- 地狱。在此处,鲁米用它来比喻“纳夫斯”永不满足的破坏性本质。
- جزو
- 部分,碎片,一小块。
- کل
- 全体,整体。
- طبع
- 本性,天性,气质。
討論 — 就此詩節提問——答案源自《瑪斯納維》,每節詩句皆有引證
除非您分享,否則您的對話僅會留在此裝置上。
讀者們的提問0
尚無分享的提問——您的提問或可為濫觴。