閱讀› 卷 1› 闡明穆薩和法老都受神意的掌控,如同毒藥和解藥、黑暗和光明,以及法老獨自祈禱以避免破壞名譽› 詩聯 2454
M1:2454 — موسی و فرعون معنی را رهی / ظاهر آن ره دارد و این بیرهی
M1:2454
含義 · به زبانِ تو — 您的語言 · AI
حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو موسیٰ اور فرعون دونوں ایک ہی مقصد (یعنی مشیتِ الٰہی) کے تابع ہیں۔ ظاہری طور پر ایک ہدایت کے راستے پر نظر آتا ہے اور دوسرا گمراہی پر۔
یہ شعر وحدت الوجود کے اس گہرے نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کائنات میں تمام تضادات، جیسے نیکی اور بدی، نور اور ظلمت، زہر اور تریاق، درحقیقت ایک ہی حقیقتِ عظمیٰ یعنی ارادۂ خداوندی کے مظاہر ہیں۔ مولانا رومی کے مطابق، موسیٰ علیہ السلام اور فرعون، دونوں باطنی سطح پر اللہ کی مرضی کو پورا کرنے والے کارندے ہیں۔
ظاہری دنیا میں، موسیٰ ہدایت، نور اور حق کی علامت ہیں، جبکہ فرعون گمراہی، تکبر اور باطل کا نمائندہ ہے۔ لیکن ایک اعلیٰ سطح پر، یہ دونوں کردار ایک بڑے الٰہی کھیل کا حصہ ہیں جس میں دونوں کا وجود ضروری ہے۔ جس طرح دن کی قدر رات سے پہچانی جاتی ہے اور صحت کی اہمیت بیماری سے واضح ہوتی ہے، اسی طرح موسیٰ کی پیغمبری کی شان فرعون کی سرکشی کے مقابلے میں ہی پوری طرح ظاہر ہوتی ہے۔
اس سے مراد یہ نہیں کہ فرعون کا عمل قابلِ تعریف ہے، بلکہ یہ کہ اس کا وجود بھی اللہ کی حکمت اور مشیت سے باہر نہیں۔ اس کے فوراً بعد آنے والے اشعار میں رومی فرعون کی رات کی تنہائی میں کی جانے والی مناجات کا ذکر کرتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فرعون بھی اپنی سرکشی کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا اور اپنی حالت پر مجبور تھا۔ اس طرح یہ شعر ہمیں ظاہری اعمال سے آگے بڑھ کر تقدیر کے اس وسیع نظام کو دیکھنے کی دعوت دیتا ہے جہاں ہر شے اپنے مقررہ کردار کو نبھا رہی ہے۔
- معنی
- باطنی حقیقت؛ اصل حقیقت؛ مراد ہے مشیتِ الٰہی یا اللہ کی ذات۔
- رهی
- غلام، بندہ، تابع۔ یہاں مراد ہے کہ دونوں ایک ہی حقیقت کے تابع ہیں۔
- بیرهی
- گمراہی، بے راہ روی، راستے سے بھٹکنا۔
討論 — 就此詩節提問——答案源自《瑪斯納維》,每節詩句皆有引證
除非您分享,否則您的對話僅會留在此裝置上。
讀者們的提問0
尚無分享的提問——您的提問或可為濫觴。