閱讀› 卷 1› 闡明穆薩和法老都受神意的掌控,如同毒藥和解藥、黑暗和光明,以及法老獨自祈禱以避免破壞名譽› 詩聯 2456
M1:2456 — کین چه غلست ای خدا بر گردنم / ورنه غل باشد کی گوید من منم
M1:2456
含義 · به زبانِ تو — 您的語言 · AI
یہاں فرعون رات کی تنہائی میں خدا سے فریاد کر رہا ہے کہ: اے خدا، یہ میری گردن میں کیسا طوق ہے جس نے مجھے مجبور کر رکھا ہے، ورنہ اگر یہ جبری طوق نہ ہوتا تو کون تھا جو خدائی کا دعویٰ کرتا؟
مولانا رومی اس حصے میں ایک نہایت گہرا اور چونکا دینے والا نکتہ بیان کر رہے ہیں۔ وہ فرعون کو، جو ظاہری طور پر سرکشی اور تکبر کا سب سے بڑا مظہر ہے، رات کی تنہائی میں خدا کے حضور گڑگڑاتے ہوئے دکھاتے ہیں۔ فرعون کا یہ خفیہ مناجات اس کے ظاہری کردار کے بالکل برعکس ہے۔
اس شعر میں فرعون اپنی مشہورِ زمانہ انا "أنا ربكم الأعلى" (میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں) کی اصل حقیقت بیان کر رہا ہے۔ وہ خدا سے کہتا ہے کہ یہ "میں، میں" کی رَٹ لگانا میرا اپنا انتخاب نہیں، بلکہ یہ ایک بھاری طوق (غل) ہے جو آپ ہی نے میری گردن میں ڈال دیا ہے۔ وہ تسلیم کر رہا ہے کہ اس کی سرکشی دراصل مشیتِ الٰہی کے تحت ہے۔ جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو نور اور ہدایت کے لیے چنا گیا، اسی طرح اسے تاریکی اور گمراہی کے مظہر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔
یہاں تصوف کا وہ دقیق مسئلہ زیرِ بحث ہے جسے 'جبر و اختیار' کہتے ہیں۔ مولانا کے نزدیک، زہر اور تریاق، روشنی اور اندھیرا، موسیٰ اور فرعون، دونوں ایک ہی کارخانے کے بنائے ہوئے ہیں اور ایک بڑے الٰہی منصوبے کا حصہ ہیں۔ فرعون کی یہ فریاد اس کی بے بسی کا اعتراف ہے کہ اس کا کردار پہلے سے طے شدہ ہے۔ اس کی انا اس کی اپنی نہیں، بلکہ ایک غیبی ہاتھ کا ڈالا ہوا طوق ہے، جس کی وجہ سے وہ خدائی کا دعویٰ کرنے پر مجبور ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ظاہری اعمال کے پیچھے چھپے باطنی اسباب اور مشیتِ الٰہی کی کارفرمائی بہت پیچیدہ ہوتی ہے۔
- غل
- طوق؛ وہ بھاری آہنی حلقہ جو قیدیوں یا غلاموں کی گردن میں ڈالا جاتا ہے۔
- ورنه
- ورنہ؛ اگر ایسا نہ ہوتا۔
- کی گوید
- کون کہتا ہے؛ کون کہے گا۔
討論 — 就此詩節提問——答案源自《瑪斯納維》,每節詩句皆有引證
除非您分享,否則您的對話僅會留在此裝置上。
讀者們的提問0
尚無分享的提問——您的提問或可為濫觴。