閱讀› 卷 1› 語法學家與船夫的故事› 詩聯 2850
M1:2850 — آب دریا مرده را بر سر نهد / ور بود زنده ز دریا کی رهد
M1:2850
含義 · به زبانِ تو — 您的語言 · AI
سمندر کی فطرت ہے کہ وہ لاش کو اوپر اچھال دیتا ہے اور اُسے عزت سے اٹھائے رکھتا ہے، جبکہ زندہ شخص کو اپنی گہرائیوں میں کھینچ لیتا ہے جہاں وہ جدوجہد کرتا ہے۔
یہ شعر نحوی اور کشتی بان کی حکایت کے مرکزی نقطے کی وضاحت کرتا ہے۔ کشتی بان نے مغرور عالم کو بتایا کہ اس گرداب میں علمِ نحو (قواعد) نہیں بلکہ محو (خود کو مٹانا) کام آئے گا۔ مولانا رومی اسی بات کو سمندر کی تمثیل سے سمجھا رہے ہیں۔
سمندر اُس شخص کو ڈبو دیتا ہے جو زندہ ہے، یعنی جو اپنی انا، اپنی ذات کے احساس، اور اپنی کوششوں کے ساتھ پانی میں ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ وہ اپنی طاقت سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور اسی کوشش میں ڈوب جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص ”مُردہ“ ہو جاتا ہے — یعنی جو اپنی انا کو فنا کر دیتا ہے، اپنی مرضی کو خدا کی مرضی کے سپرد کر دیتا ہے، اور مزاحمت چھوڑ دیتا ہے — سمندر اسے ڈوبنے نہیں دیتا بلکہ ایک لاش کی طرح اُسے اپنی سطح پر اٹھا لیتا ہے اور عزت بخشتا ہے۔
یہاں ”مُردہ“ ہونا ایک روحانی کیفیت ہے جسے صوفیاء ”موتوا قبل ان تموتوا“ (مرنے سے پہلے مر جاؤ) کہتے ہیں۔ یہ اپنی بشری صفات اور نفسانی خواہشات سے مر جانا ہے۔ جب سالک اس مقام پر پہنچتا ہے تو اسرارِ الٰہی کا سمندر اُسے اپنی آغوش میں لے کر سربلند کرتا ہے۔ علم کی جمع اور تکبر زندہ رہنے کی علامت ہے، جبکہ سپردگی اور فنا روحانی نجات کا راستہ ہے۔
- بر سر نهد
- سر پر رکھتا ہے؛ مراد ہے عزت دینا، بلند کرنا، قدر کرنا۔
- کی رهد
- کیسے نجات پائے گا؟ کیسے بچے گا؟ یہ ایک سوالیہ جملہ ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ ہرگز نہیں بچ سکتا۔
討論 — 就此詩節提問——答案源自《瑪斯納維》,每節詩句皆有引證
除非您分享,否則您的對話僅會留在此裝置上。
讀者們的提問0
尚無分享的提問——您的提問或可為濫觴。