閱讀› 卷 2› 真主責備穆薩(願他平安)為了那位牧羊人› 詩聯 1754
M2:1754 — در حقِ او مَدح و در حقِّ تو ذَم / در حقِ او شَهد و در حقِّ تو سَم
M2:1754
含義 · به زبانِ تو — 您的語言 · AI
جو بات اُس چرواہے کے لیے تعریف کے لائق ہے، اے موسیٰ، وہی بات تمہارے لیے قابلِ مذمت ہے۔ جو کلام اُس کے لیے شہد کی مانند ہے، وہی تمہارے لیے زہر کی طرح ہے۔
یہ شعر اُس مشہور حکایت کا نقطۂ عروج ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک سادہ لوح چرواہے کو خدا سے بے تکلفی سے باتیں کرنے پر ڈانٹتے ہیں۔ چرواہا اپنی محبت میں کہتا ہے کہ 'اے خدا، تُو کہاں ہے کہ میں تیرے بال سنواروں، تیرے کپڑے دھوؤں اور تیرے جوتوں کی مرمت کروں۔' حضرت موسیٰ، جو شریعت اور تنزیہہ (خدا کا ہر نقص سے پاک ہونا) کے پیغمبر ہیں، اِن باتوں کو کفر سمجھتے ہیں اور چرواہے کو سخت سست کہتے ہیں۔
اِس پر خدا حضرت موسیٰ پر عتاب فرماتا ہے۔ پچھلے اشعار میں واضح کیا گیا کہ ہر شخص کو خدا نے ایک الگ فطرت اور اُس سے بات کرنے کا ایک الگ اسلوب (اصطلاح) عطا کیا ہے۔ یہ شعر اُسی خیال کو انتہا پر لے جاتا ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ چرواہے کا وہ محبت بھرا، بھولا بھالا کلام اُس کے اپنے مقام اور حال کے مطابق تھا، اِس لیے وہ ہمارے نزدیک 'مدح' یعنی تعریف ہے۔ لیکن وہی کلام اگر تم، یعنی موسیٰ، اپنی معرفت اور مرتبے کے باوجود کہو تو وہ 'ذم' یعنی مذمت اور گستاخی ہو گی۔
مولانا رومی یہاں ظاہر اور باطن کا فرق واضح کر رہے ہیں۔ عبادت اور محبت کا تعلق الفاظ کے خول سے نہیں، بلکہ دل کی سچائی اور حال سے ہے۔ چرواہے کی نیت خالص تھی، اِس لیے اُس کے الفاظ، جو ظاہراً غلط تھے، خدا کے نزدیک شہد کی طرح میٹھے تھے۔ لیکن اگر وہی الفاظ کوئی عالم یا عارف بغیر اُس سادگی اور سوز کے کہے تو وہ اُس کے حق میں زہر کی طرح مہلک ہوں گے کیونکہ یہ اُس کے علم اور مقام کی نفی ہو گی۔ اصل چیز 'حال' ہے، 'قال' (گفتگو) نہیں۔
- در حقِ او
- اُس کے حق میں؛ اُس کے لیے؛ اُس کے معاملے میں
- مدح
- تعریف، ستائش
- ذم
- مذمت، برائی، ہجو
- شهد
- شہد
- سم
- زہر
خداوند به موسی میگوید که معیارها و عبارات برای هر کس متفاوت است؛ کلام ساده و عاشقانۀ چوپان که در نظر تو کفرآمیز بود، نزد من ستایش است و کار تو در سرزنش او، گناه.
این بیت در قلب داستان موسی و شبان قرار دارد، جایی که خداوند موسی را به خاطر توبیخ کردن چوپانی سادهدل سرزنش میکند. چوپان با زبانی عامیانه و سرشار از استعارههای مادی، عشق خود را به خدا ابراز میکرد و موسی، به عنوان پیامبر شریعت، این سخنان را کفرآمیز دانسته و او را از این کار منع کرده بود.
خداوند در اینجا به موسی توضیح میدهد که نگاه او فراتر از قالبهای ظاهری و الفاظ است. سخنان چوپان، که از صمیم قلب و نهایت عشق او برمیآمد، در «حق» او، یعنی با توجه به سطح درک و حال درونیاش، عین ستایش (مدح) و مانند عسل (شهد) شیرین است. اما همین رویکرد و همین نوع سخن اگر از موسی که پیامبر و آگاه به مراتب توحید است سر بزند، نکوهش (ذم) و همچون زهر (سم) خواهد بود.
مولانا با این تقابل قدرتمند، یکی از اصول بنیادین عرفان را بیان میکند: ارزش اعمال و گفتار به نیت و حال درونی فاعل آن بستگی دارد، نه به صورت ظاهری آن. خداوند برای هر کسی راه و روشی (سیرتی و اصطلاحی) متناسب با ظرفیت او قرار داده است. از این رو، شریعت و آداب ظاهری که برای موسی و امثال او لازم است، نباید مانع از ارتباط قلبی و عاشقانۀ کسی مانند آن شبان شود. اصل، «سوز» دل است، نه «ساز» گفتار.
- در حقِ
- دربارهٔ، برایِ، نسبت به
- مَدح
- ستایش، ستودن، تعریف
- ذَم
- نکوهش، سرزنش، بدگویی
- شَهد
- عسل، شیرینی
- سَم
- زهر
討論 — 就此詩節提問——答案源自《瑪斯納維》,每節詩句皆有引證
除非您分享,否則您的對話僅會留在此裝置上。
讀者們的提問0
尚無分享的提問——您的提問或可為濫觴。