閱讀› 卷 5› 詮釋此節經文:「不信道的人們,他們幾乎用他們的眼光使你跌倒。」› 詩聯 519
M5:519 — زلت آدم ز اشکم بود و باه / وآن ابلیس از تکبر بود و جاه
M5:519
含義 · به زبانِ تو — 您的語言 · AI
حضرت آدمؑ کی خطا کا سبب پیٹ کی بھوک اور جنسی خواہش تھی، جبکہ ابلیس کی خطا غرور اور دنیاوی مرتبے کی ہوس تھی۔
یہ شعر اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ انسان کی لغزشوں کی بنیادی وجوہات کیا ہیں۔ مولانا رومی یہاں حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کے قصے کا حوالہ دیتے ہیں تاکہ حرص کی مختلف صورتوں اور ان کے نتائج کو واضح کیا جا سکے۔
حضرت آدمؑ کی خطا (جنت کے ممنوعہ پھل کو کھانا) کو شکم (پیٹ کی بھوک) اور باہ (جنسی خواہش) سے جوڑا گیا ہے، کیونکہ اس پھل کو کھانے کا محرک ایک قسم کی جسمانی خواہش تھی۔ یہ خواہش اگرچہ لغزش کا باعث بنی، لیکن اس میں تکبر یا دوسروں پر برتری کی ہوس شامل نہیں تھی۔ اسی لیے آدمؑ نے فوراً اپنی غلطی تسلیم کی اور توبہ کی۔
اس کے برعکس، ابلیس کی لغزش کا سبب تکبر (غرور) اور جاہ (منصب یا مقام کی ہوس) تھا، جب اس نے آدمؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ وہ حرص ہے جو انسان کو الٰہی مرتبے کا دعویٰ کرنے پر اکساتی ہے، جیسا کہ پچھلے شعر (M5:518) میں بیان ہوا کہ جو شخص جاہ میں الوہیت کا دعویٰ کرتا ہے، وہ شراکت کی طمع سے کیسے بچ سکتا ہے؟ یہ حرص، جو اقتدار اور برتری کی خواہش سے جنم لیتی ہے، جسمانی خواہشات سے کہیں زیادہ خطرناک اور گہری ہے۔ اسی لیے ابلیس نے توبہ سے انکار کیا اور ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ ہوا۔
مولانا اس فرق کو واضح کر کے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگرچہ دونوں صورتیں حرص کی ہیں، لیکن تکبر اور جاہ کی حرص زیادہ مہلک ہے کیونکہ یہ انسان کو خدا سے دور کر دیتی ہے اور توبہ کے دروازے بند کر دیتی ہے۔
- زلت
- لغزش، خطا، گناہ
- اشکم
- پیٹ، بھوک
- باه
- جنسی خواہش، شہوت
- تکبر
- غرور، گھمنڈ
- جاه
- منصب، مقام، دنیاوی مرتبہ
討論 — 就此詩節提問——答案源自《瑪斯納維》,每節詩句皆有引證
除非您分享,否則您的對話僅會留在此裝置上。
讀者們的提問0
尚無分享的提問——您的提問或可為濫觴。