阅读› 卷 2› 真主责备摩西(愿主福安之)为了那个牧羊人› 诗联 1761
M2:1761 — زانک دل جَوهر بوَد، گفتن عَرَض / پس طُفَیل آمد عَرَض، جَوهرْ غَرَض
M2:1761
释义 · به زبانِ تو — 你的语言 · AI
اس لیے کہ دل اصل جوہر ہے اور بات چیت محض ایک ظاہری صفت۔ پس گفتار تو طفیلی ہے، اصل مقصد تو دل (یعنی جوہر) ہی ہے۔
یہاں مولانا رومی فلسفے کی دو مشہور اصطلاحات، جوہر (substance) اور عَرض (accident)، استعمال کر کے ایک گہرا روحانی نکتہ بیان کر رہے ہیں۔ فلسفے میں جوہر وہ شے ہے جو اپنے وجود کے لیے کسی دوسری چیز کی محتاج نہ ہو، جبکہ عرض وہ صفت ہے جس کا وجود جوہر پر منحصر ہوتا ہے، جیسے سیب (جوہر) اور اس کی سُرخی (عرض)۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور چرواہے کے قصے کے اس حصے میں، خدا حضرت موسیٰ کو سمجھا رہا ہے کہ ظاہری الفاظ اور عبادات کی حیثیت محض 'عرض' کی سی ہے۔ اصل شے، یعنی 'جوہر'، وہ سچی نیت، خلوص اور محبت ہے جو دل میں ہوتی ہے۔ چرواہے کے الفاظ بظاہر گستاخانہ تھے، لیکن اس کا دل خدا کی محبت سے لبریز تھا۔ خدا فرماتا ہے کہ ہم الفاظ کے ظاہری ڈھانچے کو نہیں دیکھتے، جو ہر لمحہ بدل سکتے ہیں، بلکہ ہم دل کی اُس کیفیت کو دیکھتے ہیں جو اصل اور پائیدار ہے۔
شعر کا دوسرا مصرع اسی بات پر زور دیتا ہے: 'عرض' یعنی گفتار تو 'طفیلی' (parasitic/dependent) ہے، جبکہ اصل مقصد اور غرض تو 'جوہر' یعنی دل کی سچائی ہے۔ لہٰذا، جب اصل (دل) درست ہو تو اس کی ظاہری صفت (الفاظ) میں اگر کوئی کمی رہ بھی جائے تو وہ نظر انداز کر دی جاتی ہے، کیونکہ اصل اہمیت باطن کی ہے، ظاہر کی نہیں۔
- جَوهر
- فلسفے کی اصطلاح؛ وہ شے جو قائم بالذات ہو، اصل، حقیقت، مغز۔ یہاں مراد 'دل' یا 'نیت' ہے۔
- عَرَض
- فلسفے کی اصطلاح؛ وہ صفت یا حالت جو کسی جوہر کے ساتھ قائم ہو، غیر مستقل اور ظاہری شے۔ یہاں مراد 'گفتگو' یا 'الفاظ' ہیں۔
- طُفَیل
- وہ جو کسی دوسرے کی بدولت یا سہارے سے ہو؛ ضمنی، ثانوی، غیر اہم۔
- غَرَض
- مقصد، مدعا، اصل مطلوب۔
خداوند به موسی میگوید که اصل و اساس بندگی، حال درونی و قلبی انسان است، نه صرفاً کلمات و عباراتی که بر زبان میآورد. گفتار، پیرو و فرعِ دل است و هدف اصلی، حقیقتِ دل است.
این بیت در ادامهٔ عتاب خداوند به حضرت موسی آمده است که چرا چوپان عاشق را به خاطر بیان ساده و عاشقانهاش سرزنش کرده است. مولوی در اینجا از دو اصطلاح فلسفی کلیدی، «جوهر» و «عَرَض»، برای روشن کردن منظورش استفاده میکند.
جوهر (substance) آن چیزی است که به خودی خود وجود دارد و قائم به ذات است. در اینجا، «دل» یا همان حال درونی، نیت خالص و عشق سوزان بنده، جوهر و اصل است. این حقیقتِ باطنی، بنیاد رابطه با خداست.
عَرَض (accident) چیزی است که وجودش وابسته به جوهر است و به تنهایی معنایی ندارد؛ مانند رنگ یا شکل یک جسم. در این بیت، «گفتن» یا کلمات و عبارات ظاهری، در حکم عَرض هستند. آنها تنها نمودی از آن حال درونیاند و اصالت ندارند. ارزش آنها به این است که چقدر از آن جوهر قلبی حکایت میکنند.
بنابراین، خداوند به موسی یادآوری میکند که هدف اصلی (غرض)، همان جوهر یعنی دلِ پاک و عاشق است. گفتار (عرض) تنها طفیلی و تابعی از آن است. نباید به خاطر ظاهرِ فرعی، اصل و اساس را نادیده گرفت. این خطای چوپان در کلام، در برابر صدق و سوز دلش، بیاهمیت است.
- جَوهر
- اصل، ذات، حقیقت اصلی یک چیز که قائم به خود است.
- عَرَض
- امری فرعی و غیرذاتی که وجودش وابسته به جوهر است؛ نمود ظاهری.
- طُفَیل
- پیرو، وابسته، چیزی که به تبعِ چیز دیگر وجود دارد، فرعی.
- غَرَض
- هدف، مقصود اصلی.
- زانک
- زیرا که، برای اینکه.
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.