اقرأ› دفتر ١› حكاية النحوي والملاح› بيت ٢٨٥٩
M1:2859 — گر ز دجله با خبر بودی چو ما / او نبردی آن سبو را جا بجا
M1:2859
المعنى والشرح · به زبانِ تو — بلغتك · AI
اگر آن مرد عرب از دریای بیکران علم الهی آگاه بود، به دانش اندک و محدود خود نمیبالید و آن را همهجا با خود حمل نمیکرد.
این بیت در ادامهی تمثیل مرد عربی است که کوزهی آبی را به عنوان هدیه برای خلیفه به بغداد میآورد، غافل از آنکه شهر بغداد در کنار رود عظیم دجله قرار دارد.
مولانا در ابیات قبل، این تمثیل را رمزگشایی کرده است: کوزهی آب (سبو)، نماد دانشهای جزئی و اکتسابی ماست و رود دجله، نماد علم بینهایت و محیط الهی. ما انسانها مانند آن مرد عرب، کوزههای کوچک دانش خود را با غرور به پیشگاه خداوند میبریم، در حالی که این دانش در برابر علم او هیچ است.
مولانا میگوید آن مرد عرب چون از وجود دجله بیخبر بود، در این کار معذور بود. اما اگر او هم مانند «ما» (عارفان) میدانست که سرچشمهی همهی آبها کجاست، هرگز آن کوزهی کوچک را با زحمت حمل نمیکرد و به آن افتخار نمینمود. در واقع، به محض آگاهی از دریا، کوزهی خود را میشکست (چنان که در بیت بعدی میآید). پیام اصلی این است که درک عظمت علم الهی، انسان را از غرور نسبت به دانستههای محدودش رها میکند و او را به «محو» شدن در آن اقیانوس بیکران فرامیخواند.
- دجله
- رود بزرگ دجله؛ در اینجا نماد علم بینهایت خداوند است.
- سبو
- کوزه، ظرف سفالی برای آب؛ در اینجا نماد دانش محدود و اکتسابی انسان است.
- جا بجا
- از جایی به جای دیگر، اینسو و آنسو.
اگر وہ بدو بھی ہماری طرح خدا کے علم کے سمندر (دجلہ) سے باخبر ہوتا، تو وہ اپنے محدود علم کے مشکیزے کو اتنی اہمیت نہ دیتا اور اسے ہر جگہ ساتھ لے کر نہ گھومتا۔
یہاں مولانا رومی نحوی اور کشتی بان کی حکایت کو ایک اور تمثیل سے واضح کر رہے ہیں: ایک بدو کی کہانی جو بغداد کے خلیفہ کے لیے تحفے کے طور پر ایک مشکیزہ پانی لایا تھا، یہ جانے بغیر کہ خلیفہ کا محل تو خود دریائے دجلہ کے کنارے پر واقع ہے۔
اس شعر میں، بدو (اعرابی) اس سالک یا عالم کی علامت ہے جو اپنے محدود، جزوی اور حاصل کردہ علم پر بہت نازاں ہے۔ اس کا پانی کا مشکیزہ (سبو) اس کے ذاتی علم، تصورات اور عقلی دلائل کی نمائندگی کرتا ہے۔ دوسری طرف، دریائے دجلہ خدا کے لامحدود، براہِ راست اور حقیقی علم (علمِ لدنی) کی علامت ہے۔
مولانا کہتے ہیں کہ جس طرح ہم (یعنی عارفین) خدا کے علم کے سمندر سے واقف ہیں، اگر وہ بدو بھی اس حقیقت سے آگاہ ہوتا تو وہ اپنے چھوٹے سے مشکیزے کو اتنی اہمیت نہ دیتا۔ اسے احساس ہوتا کہ اس کے چند قطرے اس عظیم دریا کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ یہ شعر دراصل اس صوفیانہ نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب انسان کو حقیقی اور لامحدود علم کا ادراک ہو جاتا ہے، تو وہ اپنے جزوی اور کتابی علم کے غرور سے پاک ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس کی ساری عقلی کاوشیں اس سمندر کے مقابلے میں ایک چھوٹے سے برتن کی مانند ہیں، جسے اٹھائے پھرنا بےمعنی ہے۔
- دجله
- دریائے دجلہ؛ یہاں مراد خدا کا لامحدود علم ہے۔
- سبو
- پانی کا برتن، مشکیزہ، صراحی؛ یہاں مراد انسان کا محدود اور حاصل کردہ علم ہے۔
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.