Lire› Livre 1› L'histoire du grammairien et du batelier› Verset 2856
M1:2856 — آن سبوی آب، دانشهای ماست / وان خلیفه دجلهٔ علم خداست
M1:2856
Sens · به زبانِ تو — Votre langue · AI
این بیت، دانشهای محدود و اکتسابی بشر را به کوزهای آب تشبیه میکند و در مقابل، علم بینهایت خداوند را به رود عظیم دجله مانند میکند.
مولانا در اینجا تمثیلی را به کار میگیرد که در ابیات بعدی آن را باز میکند: داستان عربی بادیهنشین که برای خلیفه در بغداد، یک کوزه آب به عنوان هدیهای گرانبها میآورد، غافل از اینکه قصر خلیفه بر کنار رود عظیم دجله بنا شده است.
در این تمثیل، «کوزهی آب» نماد تمام دانشهای بشری، علوم رسمی و معرفتهای جزئی و اکتسابی ماست. این دانشها، هرچقدر هم که برای ما ارزشمند به نظر برسند، در برابر اقیانوس علم الهی، مقداری ناچیز و محدود هستند. «خلیفه» در اینجا نماد و نمایندهی خداوند است و «دجله» استعارهای از علم الهی است؛ علمی که مانند رودی خروشان، بینهایت، زاینده و حیاتبخش است.
پیام اصلی این بیت، که در ادامهی داستان نحوی و کشتیبان آمده، این است که تکیه کردن بر دانشهای ظاهری و عقلی (مانند علم نحو برای آن مرد ادیب) در مقابل حقیقت بیکران الهی، مانند بردن یک کوزه آب به کنار رود دجله است. راه حقیقی، نه انباشت دانشهای جزئی، بلکه «محو» شدن و غرق گشتن در آن دریای معرفت است.
- سبو
- کوزه، ظرف سفالی برای حمل آب
- وان
- و آن
- خلیفه
- در اینجا نماد خداوند یا انسان کامل که تجلی علم الهی است
- دجله
- رود بزرگی که از بغداد میگذرد؛ در اینجا استعاره از علم بیکران خداوند
ہمارے تمام حاصل کردہ علوم پانی کے ایک کوزے کی مانند ہیں، جبکہ خدا کا علم ایک عظیم دریا (دجلہ) کی طرح ہے۔
مولانا یہاں نحوی اور کشتی بان کی حکایت کے باطنی معنی بیان کر رہے ہیں۔ نحوی، جو اپنے علمِ لغت پر نازاں تھا، اُس کا سارا علم ایک کوزے میں بھرے پانی کی طرح محدود اور تھوڑا ہے۔ یہ اُن تمام رسمی، عقلی اور دنیاوی علوم کی علامت ہے جو انسان اپنی محنت سے حاصل کرتا ہے۔
اس کے مقابلے میں خدا کا علم، جسے یہاں بغداد کے دریا دجلہ سے تشبیہ دی گئی ہے، ایک لامحدود، زندہ اور فیض بخش حقیقت ہے۔ یہ وہ علمِ لَدُنّی یا معرفت ہے جو عقل سے نہیں بلکہ خود کو مٹانے (محو) اور عشق سے حاصل ہوتا ہے۔
اس تمثیل کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ انسان کا محدود علم اُسے روحانی گرداب سے نہیں بچا سکتا۔ نجات کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کوزے کو خدا کے دریا میں غرق کر دے اور اپنی ذات کی نفی کر کے اُس لامحدود علم سے سیراب ہو۔ یہ بیت رسمی علم پر باطنی معرفت کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔
- سبو
- کوزہ، صراحی، مٹی کا چھوٹا گھڑا۔
- خلیفه
- یہاں اس سے مراد بغداد کا خلیفہ ہے، جو دریائے دجلہ کے کنارے حکومت کرتا تھا اور اس دریا کا مالک سمجھا جاتا تھا۔
- دجله
- دریائے دجلہ، جو بغداد کے پاس سے گزرتا ہے۔ مولانا اسے اکثر علمِ الٰہی کی وسعت اور فراوانی کے لیے بطور استعارہ استعمال کرتے ہیں۔
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.