Lue› Daftar 2› Jumalan nuhtelu Moosekselle paimenen tähden› Säepari 1766
M2:1766 — گر خطا گوید، وُرا خاطی مگو / گر بوَد پُر خون شهید، او را مشو
M2:1766
Merkitys · به زبانِ تو — Oma kielesi · AI
اگر وہ غلطی سے کچھ کہہ بیٹھے تو اسے گنہگار نہ کہو؛ اگر کوئی شہید خون میں لت پت ہو تو اسے غسل مت دو۔
یہ شعر اس حکایت کا حصہ ہے جہاں خدا حضرت موسیٰؑ کو ایک چرواہے پر تنقید کرنے پر سرزنش کر رہے ہیں۔ چرواہا اپنی سادہ لوحی میں خدا سے بے تکلفانہ اور ظاہری طور پر غلط زبان میں دعا کر رہا تھا۔ خدا حضرت موسیٰؑ کو سمجھاتے ہیں کہ الفاظ اور ظاہری آداب سے زیادہ اہم دل کی سچی تڑپ اور محبت ہے۔
اس شعر میں مولانا دو مثالوں سے اس نکتے کو واضح کرتے ہیں۔ پہلی مثال یہ ہے کہ اگر کوئی عاشقِ صادق اپنی محبت کے جوش میں کوئی غلط بات کہہ دے تو اسے گنہگار یا خطا کار نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کی نیت اور اس کے دل کا حال اہم ہے، نہ کہ اس کے الفاظ کا ظاہری روپ۔
دوسری مثال شہید کی ہے۔ اسلامی فقہ کے مطابق، میدانِ جنگ میں شہید ہونے والے کو غسل نہیں دیا جاتا بلکہ اسے اسی کے خون آلود کپڑوں میں دفن کیا جاتا ہے۔ اس کا خون اس کی پاکیزگی اور اس کے بلند مرتبے کی دلیل ہے، نہ کہ کوئی ناپاکی جسے دھویا جائے۔ اسی طرح، عاشق کی ظاہری غلطی بھی اس کی محبت کی شدت کی علامت ہے، جسے ظاہری اصولوں سے پرکھنا اور ”صاف“ کرنے کی کوشش کرنا ایک بڑی غلطی ہے۔ یہ خطا سو صحیح کاموں سے بہتر ہے۔
- خاطی
- خطا کار، گنہگار، غلطی کرنے والا۔
- مشو
- مت دھو۔ یہ فارسی فعل 'شستن' (دھونا) سے امرِ نہی کا صیغہ ہے۔ یہاں اس کا تعلق شہید کو غسل نہ دینے کے شرعی حکم سے ہے۔
همانطور که شهیدِ آغشته به خون را نباید شست، عارفی که از فرط عشق سخنی خلافِ آداب ظاهر میگوید را نیز نباید سرزنش کرد و خطاکار دانست.
در این بیت، خداوند به موسی پاسخ میدهد و از او میخواهد که چوپان عاشق را به خاطر سخنان به ظاهر کفرآمیزش سرزنش نکند. مولانا برای روشن کردن این نکته، مقایسهای بسیار قدرتمند و زیبا انجام میدهد: مقایسهی «خطای عاشق» با «خون شهید».
در فقه اسلامی، بدن شهید در معرکه جنگ غسل داده نمیشود و با همان لباس و خون به خاک سپرده میشود. آن خون، نه تنها نجس نیست، بلکه مقدس و نشانهی پاکی و والاترین مرتبهی ایثار است. خداوند به موسی میگوید همانطور که تو بدن شهیدی را که غرق خون است نمیشویی (چون آن خون عین طهارت است)، روح و زبان عاشقی را هم که از شدت عشق و بیخودی «خطا» میکند، نباید با معیارهای ظاهری و آداب شریعت «شستوشو» دهی و او را خطاکار بخوانی.
نکتهی اصلی این است که «خطا»ی چوپان، مانند خون شهید، از سر صدق و عشق است و نزد خداوند از بسیاری عبادتهای ظاهری و آدابدانانه ارزشمندتر است. این «خطا» در واقع گواهی بر سوختن و فنای او در عشق الهی است و نباید آن را با گناه و اشتباه یکی دانست. این بیت، دفاعیهای شورانگیز از «باطن» و «حال» در برابر «ظاهر» و «قال» است.
- خاطی
- خطاکار، گناهکار
- مشو
- نشوی، شستوشو ندهی (فعل نهی از شستن)
- وُرا
- او را
Keskustelu — Kysy tästä säeparista – vastaukset Masnavista, jokainen säe viitattuna
Keskustelusi säilyy tällä laitteella, ellet jaa sitä.
Mitä lukijat kysyivät0
Kysymyksiä ei ole vielä jaettu – omasi voisi olla ensimmäinen.