Lue› Daftar 3› Rakastaja löytää rakastetun ja selitys siitä, että etsijä löytää, kuten sanotaan: "Ja se, joka tekee hyvää atominkaan verran, näkee sen"› Säepari 4795
M3:4795 — این جهان پر آفتاب و نور ماه / او بهشته سر فرو برده به چاه
M3:4795
Merkitys · به زبانِ تو — Oma kielesi · AI
یہ شعر ایک ایسے شخص کی حالت بیان کرتا ہے جو روشنی اور حقیقت سے بھرپور دنیا میں رہتے ہوئے بھی، اپنی بدگمانی اور محرومی کے باعث، تاریکی اور جہالت کے کنویں میں سر جھکائے بیٹھا ہے۔
یہ شعر اس کہانی کے تسلسل میں ہے جہاں مولانا رومی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جو شخص سچی تلاش کرتا ہے، وہ اسے پا لیتا ہے۔ اس کے برعکس، کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی بدقسمتی اور منفی سوچ کی وجہ سے ہر اچھی چیز میں بھی برائی ہی تلاش کرتے ہیں۔ مولانا ان لوگوں کو مخاطب کرتے ہیں جو دنیا کی تمام نعمتوں اور ہدایت کے باوجود، اپنی آنکھیں بند کیے رکھتے ہیں اور روشنی کو دیکھنے سے انکار کرتے ہیں۔
یہاں 'جہان پر آفتاب و نور ماہ' (دنیا سورج اور چاند کی روشنی سے بھری ہوئی) سے مراد نہ صرف ظاہری دنیا کی روشنی ہے بلکہ روحانی حقیقت، الٰہی ہدایت اور معرفت کا نور بھی ہے جو ہر جگہ موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں، 'او بہشتہ سر فرو برده بہ چاه' (وہ کنویں میں سر جھکائے بیٹھا ہے) ایک ایسے شخص کی تصویر پیش کرتا ہے جو جان بوجھ کر خود کو تاریکی میں رکھتا ہے۔ کنواں یہاں جہالت، بدگمانی، اور خود ساختہ محرومی کی علامت ہے۔ یہ شخص اپنی بدقسمتی کو خود ہی گلے لگاتا ہے، حالانکہ اس کے ارد گرد روشنی اور رہنمائی کے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔
مولانا اس شعر کے ذریعے ایسے افراد کو جھنجھوڑتے ہیں کہ وہ اپنی آنکھیں کھولیں اور اس نور کو پہچانیں جو ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک اخلاقی اور صوفیانہ سبق ہے کہ حقیقت کو دیکھنے کے لیے اندرونی بصیرت اور مثبت رویہ ضروری ہے، ورنہ انسان روشنی میں بھی اندھا رہ سکتا ہے۔
- آفتاب
- سورج
- نور ماہ
- چاند کی روشنی
- بہشته
- درحقیقت، جبکہ
- چاه
- کنواں
Keskustelu — Kysy tästä säeparista – vastaukset Masnavista, jokainen säe viitattuna
Keskustelusi säilyy tällä laitteella, ellet jaa sitä.
Mitä lukijat kysyivät0
Kysymyksiä ei ole vielä jaettu – omasi voisi olla ensimmäinen.