読む› 巻 2› 神がモーセを羊飼いのことで叱責する› 対句 1768
M2:1768 — در درونِ کعبه رسمِ قبله نیست / چه غم اَر غَوّاص را پاچیله نیست؟
M2:1768
意味 · به زبانِ تو — あなたの言語 · AI
جو شخص حقیقت کی منزل یعنی کعبے کے اندر پہنچ چکا ہو، اسے ظاہری سمت (قبلہ) کی پابندی کی ضرورت نہیں رہتی، بالکل اسی طرح جیسے سمندر میں غوطہ لگانے والے کو پاؤں کی بیڑیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
یہ شعر حضرت موسیٰ اور چرواہے کے قصے میں اُس مقام پر آتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ کو سمجھا رہے ہیں کہ عشق اور رسمی عبادت میں کیا فرق ہے۔ مولانا رومی یہاں دو مثالیں استعمال کرتے ہیں۔
پہلی مثال کعبے کی ہے۔ مسلمان دنیا میں کہیں بھی ہوں، وہ کعبے کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھتے ہیں، کیونکہ قبلہ ایک سمت اور ظاہری علامت ہے۔ لیکن جو شخص خود کعبے کے اندر موجود ہو، اُس کے لیے کسی ایک سمت کی پابندی بے معنی ہو جاتی ہے کیونکہ وہ تو خود مرکز پر کھڑا ہے۔ اسی طرح، جو عارف یا عاشق اللہ کی ذات کی حضوری اور قُرب میں پہنچ جاتا ہے، وہ ظاہری عبادات اور الفاظ کے آداب کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ مقصد تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔
دوسری مثال غوّاص کی ہے۔ ’پاچیلہ‘ (پاؤں میں پہننے والی بیڑی یا خلخال) خشکی پر چلنے والے کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہے۔ لیکن جو غوّاص گہرے سمندر میں غوطہ لگا رہا ہو، اُس کے لیے یہ بیڑی کوئی اہمیت نہیں رکھتی؛ پانی کی گہرائی میں اُس کا وزن اور رکاوٹ محسوس نہیں ہوتی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جو شخص عشقِ الٰہی کے سمندر میں ڈوب چکا ہو، وہ دنیاوی اصولوں، سماجی پابندیوں اور ظاہری شریعت کے ضابطوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ اُس کا حال اِن چھوٹی موٹی باتوں سے بہت بلند ہوتا ہے۔
لہٰذا، یہ شعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ عشق کا مقام شریعت کے ظاہری ڈھانچے سے کہیں آگے ہے۔ عاشق کا دل ہی اُس کا کعبہ اور اُس کا باطن ہی عشق کا سمندر ہے، جہاں رسمی آداب کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
- رسمِ قبله
- قبلے کی طرف رُخ کرنے کا قاعدہ یا طریقہ۔ یہ ظاہری عبادت کی پابندی کی علامت ہے۔
- غَوّاص
- غوطہ خور؛ وہ شخص جو سمندر کی گہرائی میں اُتر جائے۔ یہاں یہ عارف یا عاشقِ الٰہی کی علامت ہے۔
- پاچیله
- پاؤں میں پہننے کی بیڑی یا زیور (پازیب/خلخال)۔ یہاں یہ دنیاوی اصولوں اور ظاہری پابندیوں کی علامت ہے۔
وقتی کسی به اصل و حقیقت چیزی رسیده باشد، دیگر نیازی به رعایت آداب و رسوم ظاهری که برای رسیدن به آن حقیقت وضع شدهاند، ندارد.
این بیت در ادامهٔ عتاب خداوند به موسی است که چرا چوپان عاشق را به خاطر بیان ساده و بیادبانهاش سرزنش کرده است. مولانا دو مثال زیبا برای روشن کردن این نکته میآورد:
-
کعبه و قبله: قبله، جهتی است که مسلمانان برای نماز به سوی آن میایستند تا به کعبه توجه کنند. اما کسی که به درون خود کعبه راه یافته، دیگر جهتگیری برایش بیمعناست؛ او در مقصد است و از هر سو به خدا توجه دارد. چوپان عاشق نیز به وصال و شهود قلبی رسیده و دیگر در بند آداب و الفاظ ظاهری نیست.
-
غواص و پاچیله: «پاچیله» وسیلهای کمکی برای نوآموزان شنا بوده است. غواصی که در اعماق دریا غوطهور است، نه تنها به این ابزار نیازی ندارد، بلکه برایش دستوپاگیر هم هست. عاشقی که در دریای عشق الهی غرق شده، به قواعد و آداب ظاهری که برای مبتدیان راه است، احتیاجی ندارد. عشق او، خود بالاترین ادب و نیایش است.
پیام اصلی این است که شریعت و آداب ظاهری (مانند قبله و پاچیله) برای هدایت سالکان به سوی حقیقت است، اما برای کسانی که به «وصل» رسیدهاند و قلبشان غرق در عشق خداست (اهل باطن)، این قواعد رنگ میبازند. خطای ظاهری چنین عاشقی، از صواب و عبادت ظاهری صد عابد برتر است.
- رسمِ قبله
- آیین و قاعدهٔ رو به قبله ایستادن
- اَر
- اگر (شکل کوتاه شده و شاعرانه)
- غَوّاص
- غواص، کسی که در آب بسیار فرو میرود، شناگر ماهر
- پاچیله
- وسیلهای کمکی و ابتدایی برای آموزش شنا، چیزی شبیه به بازوبند یا تخته شنای امروزی که به پا میبستند
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.