Lezen› Daftar 1› De Romeinse gezant vraagt Umar (moge God tevreden met hem zijn) naar de reden van de beproeving van de zielen met deze modder en klei van het lichaam› Vers 1527
M1:1527 — صد هزاران فایدهست و هر یکی / صد هزاران پیش آن یک اندکی
M1:1527
Betekenis · به زبانِ تو — Je eigen taal · AI
اس کائنات میں بے شمار فائدے ہیں، لیکن ان میں سے ہر ایک فائدہ اس عظیم ترین فائدے کے سامنے بہت حقیر ہے جس کا تعلق روح کے جسم میں آنے سے ہے۔
یہ شعر رومی کے اس مکالمے کا حصہ ہے جہاں روم کا سفیر خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھتا ہے کہ روح جیسی پاکیزہ شے کو مٹی کے اس جسم میں کیوں قید کیا گیا ہے۔ خلیفہ عمر اس سوال کو ایک گہرا اور معنی خیز سوال قرار دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی اس پر اعتراض کرنے کو نامناسب سمجھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ قید (یعنی روح کا جسم میں آنا) بظاہر ایک تکلیف دہ عمل لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے بے شمار حکمتیں اور فائدے پوشیدہ ہیں۔
اس شعر میں اسی نکتے کو واضح کیا گیا ہے کہ اس دنیا میں جو بھی فائدے نظر آتے ہیں، وہ سب اس عظیم فائدے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو روح کے جسم میں مقید ہونے سے حاصل ہوتا ہے۔ رومی کا اشارہ اس روحانی ارتقا، معرفتِ الٰہی اور اخلاقی تربیت کی طرف ہے جو انسان کو اس جسمانی وجود میں رہ کر حاصل ہوتی ہے۔ یہ دنیا، اپنی تمام تر مشکلات اور قید کے باوجود، روح کے لیے ایک تربیت گاہ ہے جہاں وہ کمال حاصل کرتی ہے۔ اس لیے، اس ظاہری قید پر اعتراض کرنے کے بجائے، اس کے گہرے فوائد اور حکمتوں پر غور کرنا چاہیے۔ یہ شعر انسان کو شکر گزاری اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر پر بھروسہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
- فایده
- فائدہ، نفع، خوبی
- اندکی
- بہت کم، معمولی چیز، حقیر
Discussie — Vraag over dit vers — beantwoord vanuit de Masnavi, met elk vers geciteerd
Je gesprek blijft op dit apparaat, tenzij je het deelt.
Wat lezers vroegen0
Nog geen vragen gedeeld — die van jou kan de eerste zijn.