Lezen› Daftar 1› Over het feit dat Mozes en Farao beiden onderworpen zijn aan de goddelijke wil, net als gif en tegengif, en duisternis en licht, en de geheime smeekbede van Farao om de traditie niet te breken› Vers 2455
M1:2455 — روز موسی پیش حق نالان شده / نیمشب فرعون هم گریان بده
M1:2455
Betekenis · به زبانِ تو — Je eigen taal · AI
دن کے وقت حضرت موسیٰؑ خدا کے حضور گریہ و زاری کرتے تھے، جبکہ آدھی رات کو فرعون بھی (تنہائی میں) رو رہا ہوتا تھا۔
یہاں مولانا رومی ایک گہرا روحانی نکتہ بیان کر رہے ہیں: ظاہری کرداروں کے پیچھے ایک پوشیدہ حقیقت کارفرما ہے۔ قصے کے اس حصے میں رومی فرعون کی اندرونی کیفیت کو بے نقاب کرتے ہیں، جو عوام کے سامنے خدائی کا دعویٰ کرتا ہے لیکن تنہائی میں اپنی بے بسی پر روتا ہے۔
یہ شعر حضرت موسیٰؑ اور فرعون کے درمیان ظاہری تضاد کے باوجود ایک باطنی مماثلت کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں ہی خدا کی مشیت کے تابع ہیں۔ موسیٰؑ کا رونا بندگی اور طلب کا رونا ہے، جو وہ دن کی روشنی میں، سب کے سامنے کرتے ہیں۔ فرعون کا رونا مجبوری، جبر اور اپنی سرکشی کے بوجھ تلے دب کر نکلنے والی آہ ہے۔ وہ اپنی انا اور عوامی شبیہ (ناموس) کی وجہ سے یہ کام چھپ کر، آدھی رات کو کرتا ہے۔
مولانا ہمیں یہ سکھا رہے ہیں کہ جسے ہم 'اچھا' اور 'برا' سمجھتے ہیں، وہ دونوں ایک بڑے الٰہی منصوبے کا حصہ ہیں۔ زہر اور تریاق، روشنی اور تاریکی، دونوں ایک ہی حقیقت کے مختلف مظاہر ہیں۔ فرعون کی سرکشی بھی خدا کے اِذن کے بغیر ممکن نہیں، اور اس کا رات کو رونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی روح اپنی اصل سے کٹے ہونے پر بے چین ہے۔ یہ شعر ہمیں ظاہری اعمال سے آگے بڑھ کر باطنی حقائق اور خدا کی ہمہ گیر قدرت کو دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔
- نالان
- نالہ کرنے والا، گریہ و زاری کرنے والا، رونے والا۔
- نیمشب
- آدھی رات۔
- گریان
- روتا ہوا، گریہ کرنے والا۔
- بُده
- تھا (بود کا قدیم فارسی انداز)۔
Discussie — Vraag over dit vers — beantwoord vanuit de Masnavi, met elk vers geciteerd
Je gesprek blijft op dit apparaat, tenzij je het deelt.
Wat lezers vroegen0
Nog geen vragen gedeeld — die van jou kan de eerste zijn.