Lezen› Daftar 1› Over het feit dat Mozes en Farao beiden onderworpen zijn aan de goddelijke wil, net als gif en tegengif, en duisternis en licht, en de geheime smeekbede van Farao om de traditie niet te breken› Vers 2457
M1:2457 — زانک موسی را منور کردهای / مر مرا زان هم مکدر کردهای
M1:2457
Betekenis · به زبانِ تو — Je eigen taal · AI
یہ فرعون کی خفیہ مناجات ہے، جس میں وہ خدا سے کہتا ہے: اے خدا، جس طرح تُو نے موسیٰ کو نورِ ہدایت سے روشن کیا ہے، اُسی طرح تُو نے مجھے اُسی نور کے مقابل تاریکی اور کدورت میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہ شعر فرعون کی ایک خفیہ اور ذاتی دعا کا حصہ ہے، جیسا کہ رومی نے تصور کیا ہے۔ قرآن کی روایتی تصویر کے برعکس، یہاں فرعون کو ایک ایسے شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے جو تنہائی میں خدا کی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ وہ شکایت کر رہا ہے کہ اس کی سرکشی اور تکبر اس کی اپنی مرضی کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ بھی خدا کے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔
اس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ موسیٰ کا نورانی کردار اور فرعون کا تاریک کردار، دونوں ایک ہی الٰہی منبع سے نکلتے ہیں۔ خدا نے موسیٰ کو ہدایت کا مظہر (منور) بنایا اور اسی عمل کے تضاد میں فرعون کو گمراہی اور کدورت (مکدر) کا ذریعہ بنا دیا۔ یہ دونوں کردار، جیسے زہر اور تریاق، یا روشنی اور تاریکی، ایک بڑے الٰہی کھیل میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور دونوں خدا کی مشیت کے تابع ہیں۔ فرعون یہاں اپنی بے بسی کا اظہار کر رہا ہے کہ اس کا مقدر بھی خدا کے ہاتھ میں ہے، جس نے اسے یہ منفی کردار سونپا ہے۔
- منور
- روشن کیا ہوا، نورانی، جسے روشنی بخشی گئی ہو۔ یہاں مراد ہدایت کا نور ہے۔
- مُکَدَّر
- گدلا، میلا، پریشان حال، تاریک۔ یہاں روحانی تاریکی اور گمراہی مراد ہے۔
- مر مرا
- ایک قدیم فارسی ترکیب جو تاکید کے لیے استعمال ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے 'خاص طور پر مجھے'۔
Discussie — Vraag over dit vers — beantwoord vanuit de Masnavi, met elk vers geciteerd
Je gesprek blijft op dit apparaat, tenzij je het deelt.
Wat lezers vroegen0
Nog geen vragen gedeeld — die van jou kan de eerste zijn.