Lezen› Daftar 2› De muis trekt de teugel van de kameel en de muis wordt trots op zichzelf› Vers 3471
M2:3471 — چونک کرد ابلیس خو با سروری / دید آدم را حقیر او از خری
M2:3471
Betekenis · به زبانِ تو — Je eigen taal · AI
جب ابلیس کو اپنی برتری اور سرداری کا گمان ہو گیا تو اُس نے آدم علیہ السلام کو اپنی جہالت اور کم عقلی کی وجہ سے کمتر سمجھا۔
یہ شعر اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کس طرح تکبر اور خود پسندی انسان کو گمراہ کرتی ہے۔ رومی یہاں ابلیس کے واقعے سے مثال دیتے ہیں کہ جب ابلیس کو اپنی عبادت اور برتری کا زعم ہوا تو اُس نے آدم کو حقیر جانا۔ یہ تکبر اور سرداری کی عادت ہی تھی جس نے اُسے اللہ کے حکم کی نافرمانی پر اکسایا۔ رومی کے نزدیک، یہ خود پسندی اور اپنی برتری کا خیال ہی ہے جو انسان کو دوسروں کو کم تر سمجھنے اور پھر غلط فیصلے کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ کہانی میں چوہے کا اونٹ کی مہار تھام کر خود کو سردار سمجھنا اور پھر غرور میں آکر اونٹ سے خود کو بہتر سمجھنا، اسی ابلیسی خصلت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ دراصل ایک اخلاقی درس ہے کہ جب انسان کو کوئی اختیار یا برتری حاصل ہوتی ہے تو وہ خود پسندی کا شکار ہو کر دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے، اور یہیں سے اس کی گمراہی کا آغاز ہوتا ہے۔
- سروری
- سرداری، حکمرانی، برتری
- خری
- حریت، بے وقوفی، جہالت (یہاں مراد خود پسندی کی وجہ سے پیدا ہونے والی جہالت ہے)
Discussie — Vraag over dit vers — beantwoord vanuit de Masnavi, met elk vers geciteerd
Je gesprek blijft op dit apparaat, tenzij je het deelt.
Wat lezers vroegen0
Nog geen vragen gedeeld — die van jou kan de eerste zijn.