Lezen› Daftar 4› De ezelin bevestigt de antwoorden van de kameel en erkent zijn superioriteit over haarzelf. Ze zoekt hulp bij hem en neemt haar toevlucht tot hem in oprechtheid. De kameel troost haar en wijst haar de weg, en helpt haar vaderlijk en koninklijk› Vers 3411
M4:3411 — چونک اصلی بود جرم آن بلیس / ره نبودش جانب توبهٔ نفیس
M4:3411
Betekenis · به زبانِ تو — Je eigen taal · AI
چونکہ ابلیس کا گناہ اس کی سرشت کا حصہ تھا، اس لیے اسے سچی توبہ کی طرف رہنمائی نہیں ملی۔
یہ شعر اُس مکالمے کا حصہ ہے جہاں اونٹ، خچر کو سمجھا رہا ہے کہ اس کے گناہ اور ابلیس کے گناہ میں کیا فرق ہے۔ اونٹ کہتا ہے کہ خچر کا برا رویہ عارضی تھا، اس کی اصل فطرت کا حصہ نہیں تھا۔ اس کی مثال حضرت آدم علیہ السلام سے دی جاتی ہے جن کی خطا عارضی تھی اور انہوں نے فوراً توبہ کر لی۔ اس کے برعکس، ابلیس کا جرم، یعنی تکبر اور نافرمانی، اس کی اصل سرشت میں شامل تھا، اس کے وجود کا حصہ بن چکا تھا۔ اسی وجہ سے اسے سچی اور خالص توبہ (توبۂ نفیس) کی توفیق نہیں ملی۔ رومی یہاں یہ واضح کر رہے ہیں کہ وہ برائی جو انسان کی ذات میں پختہ ہو جائے، اس سے نجات بہت مشکل ہوتی ہے، جبکہ عارضی برائی سے توبہ کی راہ کھلی رہتی ہے۔ یہ انسان کی باطنی حالت اور اس کی نیت کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
- نفیس
- پاکیزہ، عمدہ، خالص، قیمتی
- ابلیس
- شیطان، وہ جن جس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا
Discussie — Vraag over dit vers — beantwoord vanuit de Masnavi, met elk vers geciteerd
Je gesprek blijft op dit apparaat, tenzij je het deelt.
Wat lezers vroegen0
Nog geen vragen gedeeld — die van jou kan de eerste zijn.