Citește› Daftar 3› Negația de către acel grup a rugăciunii și mijlocirii lui Duqoqi și zborul lor și dispariția lor în vălul invizibilului, iar uimirea lui Duqoqi dacă au mers în aer sau în pământ› Distih 2299
M3:2299 — تو همان دیدی که ابلیس لعین / گفت من از آتشم آدم ز طین
M3:2299
Înțeles · به زبانِ تو — Limba ta · AI
اے دقوقی، تم نے ان درویشوں کو صرف ان کے ظاہری انسانی روپ میں دیکھا، بالکل اسی طرح جیسے ابلیس نے آدم کو محض مٹی کا بنا ہوا دیکھا تھا اور اس کے باطنی جوہر کو پہچاننے سے قاصر رہا۔
یہ شعر دقوقی (Daqūqī) کی حیرت اور مایوسی کے پس منظر میں آتا ہے جب وہ درویشوں کے غائب ہونے کے بعد انہیں تلاش کر رہا ہوتا ہے۔ رومی یہاں دقوقی کو مخاطب کرتے ہوئے اس کی غلطی کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس نے ان درویشوں کو صرف ان کے جسمانی وجود کے ذریعے پرکھا، نہ کہ ان کی روحانی حقیقت کے ذریعے۔ یہ وہی غلطی ہے جو ابلیس نے کی تھی جب اس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا۔ ابلیس نے خود کو آگ سے بنا ہوا اور آدم کو مٹی سے بنا ہوا سمجھ کر اپنی برتری کا دعویٰ کیا، اور آدم کے اندر موجود خدائی روح کو نظر انداز کر دیا۔
رومی کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ظاہری شکل و صورت پر فیصلہ کرنا انسان کو حقیقت تک پہنچنے سے روکتا ہے۔ درویشوں کا غائب ہونا ایک مافوق الفطرت واقعہ تھا جو ان کی روحانی بلندی اور دنیاوی قید سے آزادی کو ظاہر کرتا ہے۔ دقوقی نے انہیں عام انسانوں کی طرح دیکھا، اور اسی لیے ان کے غائب ہونے پر حیران رہ گیا۔ یہ شعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ حقیقی بصیرت کے لیے ظاہری پردوں کو ہٹا کر باطنی جوہر کو دیکھنا ضروری ہے۔
- ابلیس لعین
- لعنت کیا ہوا ابلیس، شیطان
- آتشم
- میں آگ سے ہوں
- طین
- مٹی
Discuție — Întreabă despre acest distih — răspuns din Masnavi, cu fiecare vers citat
Conversația ta rămâne pe acest dispozitiv, dacă nu o distribui.
Ce au întrebat cititorii0
Nicio întrebare distribuită încă — a ta ar putea fi prima.