Читать› Книга 2› Укор Всевышним Мусы (мир ему) из-за этого пастуха› Бейт 1755
M2:1755 — ما بَری از پاک و ناپاکی همه / از گِرانجانی و چالاکی همه
M2:1755
Смысл · به زبانِ تو — Ваш язык · AI
خدا فرما رہا ہے کہ ہم مخلوق کے ظاہری اعمال، خواہ وہ پاکیزہ ہوں یا ناپاک، اور ان کی طبیعتوں، خواہ وہ سست ہوں یا چست، کی قید سے آزاد اور ماورا ہیں۔
یہ شعر اس حکایت کا حصہ ہے جہاں حضرت موسیٰ ایک چرواہے کو اس کی سادہ لوح اور بظاہر گستاخانہ دعا پر ڈانٹتے ہیں۔ اس کے جواب میں خدا حضرت موسیٰ پر عتاب فرماتا ہے اور سمجھاتا ہے کہ عبادت کا حقیقی معیار ظاہری الفاظ یا رسوم نہیں، بلکہ باطن کا سوز اور خلوص ہے۔
اس شعر میں خدا اپنی شانِ بے نیازی بیان کر رہا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ اسے انسانوں کی ظاہری پاکیزگی یا ناپاکی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح، کسی کی روحانی سستی (گرانجانی) یا چستی (چالاکی) بھی اس کی ذاتِ مطلق پر اثرانداز نہیں ہوتی۔ یہ تمام صفات اور اعمال مخلوق کے دائرے میں ہیں؛ خالق ان سب سے بلند و برتر ہے۔
مولانا کا نکتہ یہ ہے کہ خدا عبادت کا حکم کسی اپنے فائدے کے لیے نہیں دیتا، بلکہ یہ بندوں پر اس کا کرم اور جود و سخا ہے۔ اصل چیز بندے کا حال، اس کی نیت اور اس کے دل کی تڑپ ہے۔ چرواہے کے الفاظ بھلے ہی شریعت کے آداب کے خلاف تھے، لیکن اس کا دل محبت اور خلوص سے لبریز تھا۔ خدا اسی جوہر کو دیکھتا ہے، ظاہری الفاظ کے خول کو نہیں۔
- بَری
- آزاد، ماورا، بلند تر، بے نیاز۔
- گِرانجانی
- بھاری جان ہونا؛ روحانی سستی، کاہلی، طبیعت کا بوجھل پن۔
- چالاکی
- تیزی، پھرتی، چستی؛ یہاں مراد روحانی طور پر بیدار اور ہوشیار ہونا ہے۔
خداوند میفرماید که ذات او فراتر از معیارهای انسانی برای «پاکی» (عبادت صحیح) و «ناپاکی» (عبادت ناآگاهانه) و همچنین برتر از کوششهای «چابکانه» (عارفان) و «سست و سنگین» (عامیان) است.
این بیت در ادامهٔ عتاب خداوند به موسی است. موسی چوپانی را به خاطر دعاهای ساده و انسانوارش سرزنش کرده بود، اما خداوند به او یادآوری میکند که ذات الهی در چارچوبهای بشری نمیگنجد.
نیمبیت اول: «ما بَری از پاک و ناپاکی همه» به این معناست که خداوند نیازی به عبادت «پاک» و بینقص ما ندارد و از عبادت «ناپاک» و ظاهراً کفرآمیز چوپان نیز آسیبی نمیبیند. این دستهبندیها مربوط به عالم انسانهاست، نه جایگاه خداوند که از هر نیازی مبراست.
نیمبیت دوم: «از گِرانجانی و چالاکی همه» این ایده را بسط میدهد. «گرانجانی» (سنگینجانی و کندی) به عبادت ساده و بیتکلف چوپان اشاره دارد و «چالاکی» (چابکی و زرنگی) به عبادت آگاهانه و دقیق پیامبرانی چون موسی. خداوند میفرماید که از هر دو بینیاز است. برای او، نه زرنگی عابد عارف امتیازی میآفریند و نه سادگی عاشق عامی نقصی به حساب میآید. آنچه مهم است، «حال» و سوز درونی بنده است، نه قالب و شکل بیرونی عبادت او.
- بَری
- مبرا، پاک، رها، بینیاز
- گِرانجانی
- سنگینجانی، تنبلی، کندی، سستی در عمل
- چالاکی
- چابکی، زرنگی، مهارت، سرعت عمل
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.