Läs› Daftar 2› Köpmannen prövar Luqmans klokhet› Vers 1490
M2:1490 — تو درشتی کن مرا دشنام ده / مر مرا تو هیچ توقیری منه
M2:1490
Betydelse · به زبانِ تو — Ditt språk · AI
آقا اپنے غلام لقمان سے کہتا ہے کہ تم میرے ساتھ سختی سے پیش آؤ اور مجھے گالیاں دو؛ میرے لیے اپنے دل میں کوئی احترام نہ رکھو۔
یہ بیت اس کہانی کا حصہ ہے جہاں ایک آقا (خواجہ) اپنے غلام لقمان کی دانشمندی اور وفاداری کو آزمانے کے لیے ایک چال چلتا ہے۔ وہ ایک اجنبی جگہ پر سفر کر رہے ہوتے ہیں جہاں خواجہ اپنی شناخت چھپانا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے، خواجہ اپنے کپڑے لقمان کو پہنا دیتا ہے اور خود غلام کا لباس پہن لیتا ہے، تاکہ لوگ لقمان کو آقا سمجھیں اور خواجہ کو غلام۔
اس بیت میں، خواجہ لقمان کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ ایک آقا کی طرح برتاؤ کرے، یعنی اسے سختی سے پیش آئے اور حتیٰ کہ دشنام (گالیاں) بھی دے۔ خواجہ لقمان سے کہتا ہے کہ وہ اس کے لیے اپنے دل میں کوئی تعظیم یا توقیر (احترام) نہ رکھے۔ یہ سب اس لیے ہے تاکہ ان کا بھیس حقیقت لگے اور کوئی ان کی اصلیت نہ پہچان پائے۔ رومی اس کہانی کے ذریعے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ بعض اوقات حقیقی خدمت اور دانشمندی ظاہری وضع قطع یا سماجی رتبے کے پردے میں چھپی ہوتی ہے۔ یہ ایک صوفیانہ نکتہ بھی ہے کہ حقیقی عاجزی اور خدمت کے لیے ظاہری عزت و توقیر کو ترک کرنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات ایک بلند مرتبہ شخص بھی اپنی شناخت چھپا کر خدمت کے مقام پر آ جاتا ہے۔
- درشتی کن
- سختی سے پیش آؤ، کڑوا برتاؤ کرو
- دشنام ده
- گالیاں دو، برا بھلا کہو
- توقیری منه
- کوئی احترام نہ رکھو، عزت نہ کرو
Diskussion — Fråga om denna beyt — besvarad från Masnavi, med varje vers citerad
Ditt samtal stannar på denna enhet om du inte väljer att dela det.
Vad läsare har frågat0
Inga frågor har delats ännu — din kan bli den första.