پڑھیے› دفتر ۱› اس بیان میں کہ موسیٰ اور فرعون دونوں مشیت کے مسخر ہیں جیسے زہر اور تریاق اور تاریکیاں اور نور، اور فرعون کا خلوت میں مناجات کرنا تاکہ ناموس نہ ٹوٹے› بیت ۲۴۵۹
M1:2459 — بهتر از ماهی نبود استارهام / چون خسوف آمد چه باشد چارهام
M1:2459
معنی و شرح · به زبانِ تو — آپ کی زبان · AI
فرعون خدا سے فریاد کرتا ہے کہ میری بہترین حالت بھی بس ایک چاند کی سی تھی جو خود روشن نہیں ہوتا؛ اب جب کہ اسے بھی گہن لگ گیا ہے تو میرے پاس کیا راستہ بچا ہے۔
یہ شعر مثنوی کے اس حصے سے لیا گیا ہے جہاں مولانا رومی فرعون کی ایک خفیہ مناجات کا تصور پیش کرتے ہیں۔ عوام کے سامنے خدائی کا دعویٰ کرنے والا فرعون، تنہائی میں اللہ کے سامنے اپنی بے بسی کا اقرار کر رہا ہے۔ وہ اپنی حالت کا موازنہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کرتا ہے، جنہیں اللہ نے نور اور چاند جیسی روشن صورت عطا کی ہے۔
اس کے برعکس، فرعون محسوس کرتا ہے کہ اس کی اپنی حیثیت، اپنے عروج کے زمانے میں بھی، ایک ستارے کی سی تھی جو چاند سے بہتر نہ تھا—یعنی اس کی روشنی بھی عارضی اور مستعار تھی۔ اب وہ کہتا ہے کہ جب اس چاند جیسے ستارے کو بھی 'خسوف' یعنی گہن لگ گیا ہے (موسیٰ کی آمد سے اس کی طاقت اور شان ماند پڑ گئی ہے)، تو اس کے پاس اپنی تقدیر بدلنے کا کوئی چارہ یا اختیار باقی نہیں رہا۔
یہاں 'خسوف' (چاند گہن) ایک گہری صوفیانہ علامت ہے۔ یہ محض طاقت کے زوال کی طرف اشارہ نہیں، بلکہ اس روحانی تاریکی کی طرف اشارہ ہے جو فرعون محسوس کرتا ہے کہ خدا نے اس کے مقدر میں لکھ دی ہے۔ وہ خود کو تقدیر کے ہاتھ میں ایک مجبور کردار کے طور پر دیکھتا ہے، جو ایک بڑے الٰہی منصوبے میں اپنا منفی کردار ادا کر رہا ہے۔
- خسوف
- چاند گہن؛ یہاں مراد روحانی تاریکی، زوال یا تقدیر کا لکھا ہے۔
- استاره
- ستارہ؛ قسمت، طالع، نصیب۔
- چاره
- علاج، تدبیر، راستہ، উপায়۔
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.