پڑھیے› دفتر ۱› حصہ ۱۲۱ → پچھلا · اگلا ←
بخش ۱۲۱ - در بیان آنک موسی و فرعون هر دو مسخر مشیتاند چنانک زهر و پازهر و ظلمات و نور و مناجات کردن فرعون بخلوت تا ناموس نشکند
اس بیان میں کہ موسیٰ اور فرعون دونوں مشیت کے مسخر ہیں جیسے زہر اور تریاق اور تاریکیاں اور نور، اور فرعون کا خلوت میں مناجات کرنا تاکہ ناموس نہ ٹوٹے
- M1:2454 موسی و فرعون معنی را رهیظاهر آن ره دارد و این بیرهی موسیٰ و فرعون، معنی کے غلامظاہر میں وہ راہ پر، یہ بے لگامحقیقت کی نظر سے دیکھیں تو موسیٰ اور فرعون دونوں ایک ہی مقصد (یعنی مشیتِ الٰہی) کے تابع ہیں۔ ظاہری طور پر ایک ہدایت کے راستے پر نظر آتا ہے اور دوسرا گمراہی پر۔
- M1:2455 روز موسی پیش حق نالان شدهنیمشب فرعون هم گریان بده دن میں موسیٰ حق کے آگے زار و نالاں تھاتو آدھی رات کو فرعون بھی گریاں و پریشاں تھادن کے وقت حضرت موسیٰؑ خدا کے حضور گریہ و زاری کرتے تھے، جبکہ آدھی رات کو فرعون بھی (تنہائی میں) رو رہا ہوتا تھا۔
- M1:2456 کین چه غلست ای خدا بر گردنمورنه غل باشد کی گوید من منم یہ کیسا طوق ہے، اے خدا، میری گردن میں پڑاورنہ طوق نہ ہوتا تو کب کوئی 'میں، میں' کرتایہاں فرعون رات کی تنہائی میں خدا سے فریاد کر رہا ہے کہ: اے خدا، یہ میری گردن میں کیسا طوق ہے جس نے مجھے مجبور کر رکھا ہے، ورنہ اگر یہ جبری طوق نہ ہوتا تو کون تھا جو خدائی کا دعویٰ کرتا؟
- M1:2457 زانک موسی را منور کردهایمر مرا زان هم مکدر کردهای کیونکہ تُو نے موسیٰ کو منور کر دیا ہےاور اُسی سے مجھے بھی مکدر کر دیا ہےیہ فرعون کی خفیہ مناجات ہے، جس میں وہ خدا سے کہتا ہے: اے خدا، جس طرح تُو نے موسیٰ کو نورِ ہدایت سے روشن کیا ہے، اُسی طرح تُو نے مجھے اُسی نور کے مقابل تاریکی اور کدورت میں مبتلا کر دیا ہے۔
- M1:2458 زانک موسی را تو مهرو کردهایماه جانم را سیهرو کردهای کیونکہ تُو نے ہی موسیٰ کو چاند سا روشن چہرہ دیا ہےاور میرے چاند جیسی جان کو سیاہ رو کر دیا ہےاے خدا، یہ تیرا ہی فیصلہ ہے کہ موسیٰ کو عزت اور نور عطا ہوا، جبکہ میری روح ذلت اور تاریکی میں ڈوب گئی ہے۔
- M1:2459 بهتر از ماهی نبود استارهامچون خسوف آمد چه باشد چارهام مِرا ستارہ تو بس چاند جیسا ہی تھاجب گہن لگ گیا، تو پھر کیا چارہ تھا؟فرعون خدا سے فریاد کرتا ہے کہ میری بہترین حالت بھی بس ایک چاند کی سی تھی جو خود روشن نہیں ہوتا؛ اب جب کہ اسے بھی گہن لگ گیا ہے تو میرے پاس کیا راستہ بچا ہے۔
- M1:2460 نوبتم گر رب و سلطان میزنندمه گرفت و خلق پنگان میزنند
- M1:2461 میزنند آن طاس و غوغا میکنندماه را زان زخمه رسوا میکنند
- M1:2462 من که فرعونم ز خلق ای وای منزخم طاس آن ربی الاعلای من
- M1:2463 خواجهتاشانیم اما تیشهاتمیشکافد شاخ را در بیشهات
- M1:2464 باز شاخی را موصل میکندشاخ دیگر را معطل میکند
- M1:2465 شاخ را بر تیشه دستی هست نیهیچ شاخ از دست تیشه جست نی
- M1:2466 حق آن قدرت که آن تیشه تراستاز کرم کن این کژیها را تو راست
- M1:2467 باز با خود گفته فرعون ای عجبمن نه در یا ربناام جمله شب
- M1:2468 در نهان خاکی و موزون میشومچون به موسی میرسم چون میشوم
- M1:2469 رنگ زر قلب دهتو میشودپیش آتش چون سیهرو میشود
- M1:2470 نه که قلب و قالبم در حکم اوستلحظهای مغزم کند یک لحظه پوست
- M1:2471 سبز گردم چونک گوید کشت باشزرد گردم چونک گوید زشت باش
- M1:2472 لحظهای ماهم کند یک دم سیاهخود چه باشد غیر این کار اله
- M1:2473 پیش چوگانهای حکم کن فکانمیدویم اندر مکان و لامکان ❋
- M1:2474 چونک بیرنگی اسیر رنگ شدموسیی با موسیی در جنگ شد
- M1:2475 چون به بیرنگی رسی کان داشتیموسی و فرعون دارند آشتی
- M1:2476 گر ترا آید برین نکته سئوالرنگ کی خالی بود از قیل و قال
- M1:2477 این عجب کین رنگ از بیرنگ خاسترنگ با بیرنگ چون در جنگ خاست
- M1:2478 اصل روغن ز آب افزون میشودعاقبت با آب ضد چون میشود
- M1:2479 چونک روغن را ز آب اسرشتهاندآب با روغن چرا ضد گشتهاند
- M1:2480 چون گل از خارست و خار از گل چراهر دو در جنگند و اندر ماجرا
- M1:2481 یا نه جنگست این برای حکمتستهمچو جنگ خر فروشان صنعتست ❋
- M1:2482 یا نه اینست و نه آن حیرانیستگنج باید جست این ویرانیست ❋
- M1:2483 آنچ تو گنجش توهم میکنیزان توهم گنج را گم میکنی
- M1:2484 چون عمارت دان تو وهم و رایهاگنج نبود در عمارت جایها
- M1:2485 در عمارت هستی و جنگی بودنیست را از هستها ننگی بود
- M1:2486 نه که هست از نیستی فریاد کردبلک نیست آن هست را واداد کرد
- M1:2487 تو مگو که من گریزانم ز نیستبلک او از تو گریزانست بیست
- M1:2488 ظاهرا میخواندت او سوی خودوز درون میراندت با چوب رد
- M1:2489 نعلهای بازگونهست ای سلیمنفرت فرعون میدان از کلیم