پڑھیے› دفتر ۱› حصہ ۵ → پچھلا · اگلا ←
بخش ۵ - ملاقات پادشاه با آن ولی که در خوابش نمودند
بادشاہ کی اس ولی سے ملاقات جو اسے خواب میں دکھائے گئے تھے
- M1:94 دست بگشاد و کنارانش گرفتهمچو عشق اندر دل و جانش گرفت بانہیں کھولیں اور اُسے آغوش میں لے لیا،یوں جیسے عشق دل و جاں میں سما گیایہ شعر بادشاہ کی اُس طبیبِ الٰہی سے ملاقات کے لمحے کو بیان کرتا ہے، جہاں بادشاہ نے بڑے اشتیاق سے اُسے گلے لگایا اور اُس پر ایک ایسی کیفیت طاری ہوئی جیسے عشق نے اُس کے دل و جان پر قبضہ کر لیا ہو۔ ❋
- M1:95 دست و پیشانیش بوسیدن گرفتوز مقام و راه پُرسیدن گرفت لگا چومنے دست و پیشانی اُس کیپھر اُس سے رہ و مرتبہ پوچھنے لگابادشاہ نے اُس طبیبِ الٰہی کے ہاتھ اور پیشانی کو بوسہ دینا شروع کیا اور اُس کے روحانی مرتبے اور راہِ سلوک کے بارے میں دریافت کرنے لگا۔ ❋
- M1:96 پرسپرسان میکشیدش تا به صدرگفت گنجی یافتم آخر به صبر وہ پوچھ گچھ کرتا اُسے صدر تک کھینچ لایاکہا، آخرکار صبر سے مَیں نے ایک خزانہ پا لیابادشاہ، اُس طبیبِ الٰہی کو جس کا وہ مدت سے منتظر تھا، انتہائی احترام کے ساتھ صدرِ مجلس میں بٹھاتا ہے اور خوشی سے اعلان کرتا ہے کہ یہ وصال اُس کے دیرینہ صبر کا انعام ہے۔ ❋
- M1:97 گفت ای نور حَقُ و دفعِ حَرَجمعنی اَلصَّبْرُ مِفتاحُ الفرج کہا اے نورِ حق، اے دافعِ رنج و ضررتو ہی ہے معنیِ 'اَلصَّبْرُ مِفتاحُ الْفَرَج'بادشاہ نے اس طبیبِ الٰہی سے کہا کہ آپ اللہ کا نور اور ہر تنگی اور مصیبت کو دور کرنے والے ہیں، اور آپ کا وجود اس قول کی زندہ تفسیر ہے کہ 'صبر کامیابی کی کنجی ہے'۔
- M1:98 ای لقای تو جواب هر سؤالمشکل از تو حل شود بیقیلوقال اے کہ تیری دید ہی ہر سوال کا جواب ہےتجھ سے ہر مشکل بغیر بحث و مباحثے کے حل ہو جاتی ہےیہ بیت طبیبِ الٰہی سے خطاب ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اس سے ملاقات ہی تمام مشکلوں کو کھول دیتی ہے اور سوالوں کے جواب فراہم کر دیتی ہے، بغیر کسی گفتگو کی ضرورت کے۔ ❋
- M1:99 ترجمانی، هرچه ما را در دل استدستگیری، هر که پایش در گل است تُو ترجمان ہے جو کچھ ہمارے دل میں ہےتُو دستگیر ہے ہر اُس کا جس کا پاؤں گِل میں ہےیہ شعر اُس طبیبِ الٰہی یا مرشدِ کامل کے کردار کو بیان کرتا ہے جو نہ صرف دل کے پوشیدہ رازوں کو آشکار کرتا ہے بلکہ مصیبت زدہ اور درماندہ لوگوں کی مدد بھی کرتا ہے۔ ❋
- M1:100 مَرْحَبا یا مُجْتَبی یا مُرْتَضیإِنْ تَغِبْ جاءَ القَضَا ضَاقَ الفَضَا خوش آمدید، اے برگزیدہ (مجتبیٰ)، اے پسندیدہ (مرتضیٰ)!آپ جو غائب ہوں تو قضا آ پہنچتی ہے، اور فضا تنگ ہو جاتی ہے۔بادشاہ اُس طبیبِ الٰہی سے ملاقات پر اُسے تعریفی القابات سے پکارتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اُس کا وجود کشادگی کا باعث ہے اور اُس کی عدم موجودگی تنگی اور سختی کا سبب بنتی ہے۔ ❋
- M1:101 اَنتَ مَوْلَیالقَوْم مَنْ لا یَشْتَهِیقَدْ رَدَی کلّا لَئِنْ لَمْ یَنتَهِی آپ ہیں قوم کے مولا، جو نہ چاہے آپ کووہ ہلاک ہوا، ہرگز! اگر باز نہ آئے اِس انکار سےبادشاہ اُس طبیبِ الٰہی سے مخاطب ہو کر کہتا ہے: آپ قوم کے روحانی پیشوا ہیں؛ جو شخص آپ کی رہبری کو تسلیم نہیں کرتا، وہ یقینی طور پر ہلاک ہو چکا ہے، بشرطیکہ وہ اپنے انکار سے باز نہ آئے۔ ❋
- M1:102 چون گذشت آن مجلس و خوانِ کرمدست او بگرفت و بُرد اندر حرم جب وہ مجلس اور وہ خوانِ کرم ختم ہوااُس کا ہاتھ تھام کر بادشاہ اُسے حرم میں لے گیاجب بادشاہ کی جانب سے دیا گیا عوامی استقبال اور پرتکلف دعوت ختم ہو گئی تو وہ اس طبیب (ولی) کو ذاتی طور پر اپنے محل کے اندرونی، نجی حصے میں لے گیا۔