پڑھیے› دفتر ۱› حصہ ۷۶ → پچھلا · اگلا ←

بخش ۷۶ - تفسیر رجعنا من الجهاد الاصغر الی‌الجهاد الاکبر

رجعنا من الجهاد الأصغر الی الجهاد الأکبر کی تفسیر

  1. M1:1379 ای شهان کُشتیم ما خصم برونماند خصمی زو بتر در اندرون اے شاہان! ہم نے بیرونی دشمن کو تو مار ڈالامگر ایک دشمن باقی ہے جو اُس سے بدتر، اندرون میں ہےاے روحانی بادشاہو! ہم نے ظاہری دشمن کو تو شکست دے دی، لیکن اب بھی ایک اندرونی دشمن باقی ہے جو اس بیرونی دشمن سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
  2. M1:1380 کشتن این، کار عقل و هوش نیستشیر باطن سخرهٔ خرگوش نیست اِس کا مارنا عقل و ہوش کا کام نہیںباطن کا شیر خرگوش سے مسخر نہیں ہوتانفسِ امّارہ کو محض عقل اور دنیاوی چالاکی سے مغلوب نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ اندرونی شیر کسی خرگوش (یعنی انسانی عقل) کے قابو میں آنے والا نہیں۔
  3. M1:1381 دوزخست این نَفس و دوزخ اژدهاستکو به دریاها نگردد کم و کاست یہ نفس دوزخ ہے، اور دوزخ وہ اژدہا ہےجو سمندروں سے بھی کم نہیں ہوتایہ بیت انسانی نفس (نفسِ امّارہ) کو دوزخ سے تشبیہ دیتا ہے، جو ایک ایسے بھوکے اژدہے کی مانند ہے جس کی پیاس اور بھوک سمندروں کے پانی سے بھی نہیں بجھتی۔
  4. M1:1382 هفت دریا را در آشامد، هنوزکم نگردد سوزش آن خلق‌سوز سات سمندر بھی اگر یہ پی جائے، پھر بھیاُس خلق سوز کی تپش ذرّہ برابر کم نہ ہویہ نفسِ امّارہ جہنم کی مانند ہے جو سات سمندر پی کر بھی سیراب نہیں ہوتا، اور اس کی جلن اور مخلوق کو تباہ کرنے کی پیاس کبھی نہیں بجھتی۔
  5. M1:1383 سنگها و کافرانِ سنگ‌دلاندر آیند اندرو زار و خجل پتھر اور سنگ دل کافر سبھیداخل ہوں گے اس میں روتے، شرمسار بھییہ نفس، جو دوزخ کی مانند ہے، پتھروں اور سنگ دل کافروں کو بھی اپنے اندر نگل لیتا ہے، جو وہاں زار و قطار اور شرمندہ ہو کر داخل ہوتے ہیں۔
  6. M1:1384 هم نگردد ساکن از چندین غذاتا ز حقّ آید مرورا این ندا اِتنے لقموں پر بھی اُس کو چین نہیںجب تک حق کی جانب سے یہ صدا نہ آئےنفس، دوزخ کی مانند، لاتعداد خواہشات پوری ہونے پر بھی سیر نہیں ہوتا، جب تک کہ خود خدا اُسے روکنے کا حکم نہ دے۔
  7. M1:1385 سیر گشتی سیر، گوید نه هنوزاینت آتش اینت تابش اینت سوز پوچھا، ”کیا سیر ہوئی، اے شکم سیر؟“ بولی، ”نہیں، ابھی نہیں“یہی تو آگ ہے، یہی تو تپش ہے، یہی تو سوزش ہےجب حق تعالیٰ دوزخ (یعنی نفس) سے پوچھتا ہے کہ کیا تُو بھر گئی؟ تو وہ جواب دیتی ہے کہ ”ابھی نہیں۔“ مولانا کہتے ہیں کہ نفس کی یہی نہ بجھنے والی آگ، یہی تپش اور یہی جلن ہے۔
  8. M1:1386 عالمی را لقمه کرد و در کشیدمعده‌اش نعره زنان هَلْ مِنْ مَزید اُس نے ایک جہاں کو لقمہ بنایا اور نگل لیا،پھر بھی اُس کا معدہ پکارتا رہا: ’ہَلْ مِنْ مَزید؟‘ (کیا کچھ اور ہے؟)نفسِ امّارہ کی بھوک اور ہوس ایسی ہے کہ اگر اسے پوری دنیا بھی دے دی جائے تو وہ اسے کھا کر بھی سیر نہیں ہوگا اور مزید مانگتا رہے گا۔
  9. M1:1387 حق قدم بر وی نهد از لامکانآنگه او ساکن شود از کُنْ فَکان حق لامکاں سے اس پر اپنا قدم رکھے گاتبھی وہ کن فکاں کے اثر سے ساکن ہو گانفس کی بھڑکتی ہوئی آگ اس وقت تک نہیں بجھے گی جب تک کہ خدا اپنی لامکانی شان سے اس پر اپنا قدم نہ رکھ دے، اور اُسی لمحے وہ اس کے حکمِ کُن سے پُر سکون ہو جائے گی۔
  10. M1:1388 چونک جزو دوزخست این نَفس ماطبع کل دارد همیشه جزوها چونکہ ہے یہ نفسِ ما دوزخ کا جزوجزو میں ہوتی ہے کل کی طبع ہو بہوچونکہ ہمارا نفس دوزخ کا ایک حصہ ہے، اس لیے اس کی فطرت بھی دوزخ جیسی ہے، کیونکہ ہر جزو اپنے کُل کی خاصیت رکھتا ہے۔
  11. M1:1389 این قدم حق را بود کو را کُشدغیرِ حق خود کی کمان او کَشد یہ قدم تو بس حق ہی کا ہے جو اِس (نفس) کو مار ڈالےحق کے سوا بھلا کون ہے جو اِس کی کمان کھینچ سکےصرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو انسان کے نفسِ امّارہ کو زیر کر سکتی ہے؛ اُس کے سوا کوئی اور اِس سرکش نفس پر قابو پانے کی طاقت نہیں رکھتا۔
  12. M1:1390 در کمان ننهند الّا تیر راستاین کمان را بازگون کژ تیرهاست کمان میں سیدھے تیر کے سوا کچھ نہیں رکھتےاِس کمان کے لیے تو اُلٹے، ٹیڑھے تیر ہی مناسب ہیںعام طور پر کمان میں صرف سیدھا تیر ہی رکھا جاتا ہے، لیکن یہ (نفس کی) کمان ایسی عجیب ہے کہ اس کے لیے ٹیڑھے اور اُلٹے تیر ہی موزوں ہیں۔
  13. M1:1391 راست شو چون تیر و وا رَه از کمانکز کمان هر راست بجهد بی‌گمان
  14. M1:1392 چونک وا گشتم ز پیگار بُرونروی آوردم به پیگار درون
  15. M1:1393 قَدْ رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِیمْبَانَبِیٍّ أَنْدَرَ جِهَادِ أَکْبَرِیمْ
  16. M1:1394 قوّت از حق خواهم و توفیق و لافتا به سوزن بر کَنم این کوه قاف
  17. M1:1395 سهل دان شیری که صَفها بشکندشیر آنست آن که خود را بشکند