閱讀› 卷 2› 僕人承諾照料牲畜卻食言› 詩聯 228
M2:228 — باز میگفت آدم با لطف و جود / کی بر آن ابلیس جوری کرده بود
M2:228
含義 · به زبانِ تو — 您的語言 · AI
صوفی، اپنے گدھے کی بدحالی دیکھ کر، حیرت اور شکوہ کے عالم میں سوچتا ہے کہ اس نے تو کبھی کسی سے زیادتی نہیں کی، تو پھر یہ مصیبت اس پر کیوں آئی؟
یہ شعر اس وقت آتا ہے جب صوفی اپنے گدھے کی حالت زار دیکھ کر پریشان ہے۔ گدھا بھیڑئیے کے حملے کا شکار ہو چکا ہے اور صوفی اس صورتحال پر حیران و شاکی ہے۔ وہ اپنے دل میں سوچتا ہے کہ اس نے تو کبھی کسی کے ساتھ برا نہیں کیا، نہ ہی کسی پر ظلم کیا ہے۔ یہ خیال اس کے ذہن میں اس لیے آتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے قصور سمجھتا ہے اور اس مصیبت کو کسی بدخواہ کی سازش یا بدلہ سمجھتا ہے۔ اس شعر میں 'آدم' کا لفظ عام انسان کے لیے استعمال ہوا ہے، یعنی صوفی اپنے آپ کو ایک عام انسان کے طور پر پیش کر رہا ہے جو اپنے اعمال میں نیکی اور بھلائی کا دعویدار ہے۔ 'ابلیس' کا ذکر یہاں کسی خاص شخص کے لیے نہیں بلکہ عام دشمن یا بدخواہ کے لیے بطور استعارہ آیا ہے۔ صوفی یہ سوچتا ہے کہ جب اس نے کسی 'ابلیس' (دشمن) پر بھی ظلم نہیں کیا تو پھر یہ مصیبت اس پر کیوں نازل ہوئی؟ یہ دراصل انسان کی فطری سوچ کی عکاسی ہے کہ جب اس پر کوئی مشکل آتی ہے تو وہ اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے اور دوسروں پر شک کرتا ہے۔ یہ شعر اس کہانی میں صوفی کے ذہنی کشمکش اور اس کے اندرونی سوالات کو ظاہر کرتا ہے۔
- لطف و جود
- مہربانی اور سخاوت
- کی
- کب، کس وقت
- ابلیس
- شیطان؛ یہاں مراد کوئی دشمن یا بدخواہ
- جور
- ظلم، زیادتی
討論 — 就此詩節提問——答案源自《瑪斯納維》,每節詩句皆有引證
除非您分享,否則您的對話僅會留在此裝置上。
讀者們的提問0
尚無分享的提問——您的提問或可為濫觴。