阅读› 卷 1› 解释“我们从小圣战归来,迈向大圣战”› 诗联 1379
M1:1379 — ای شهان کُشتیم ما خصم برون / ماند خصمی زو بتر در اندرون
M1:1379
释义 · به زبانِ تو — 你的语言 · AI
اے روحانی بادشاہو! ہم نے ظاہری دشمن کو تو شکست دے دی، لیکن اب بھی ایک اندرونی دشمن باقی ہے جو اس بیرونی دشمن سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
یہ شعر ایک مشہور قولِ نبوی کی تفسیر میں ہے: ”ہم جہادِ اصغر (چھوٹے جہاد) سے جہادِ اکبر (بڑے جہاد) کی طرف لوٹ آئے ہیں۔“ یہاں مولانا رومی پیغمبرﷺ کی زبان سے غازیوں کو مخاطب کرتے ہیں، جو میدانِ جنگ سے فتح یاب ہو کر لوٹے ہیں۔ انہیں ”شاہان“ یعنی بادشاہ کہہ کر ان کی ہمت اور مرتبے کو سراہا گیا ہے۔
اصل نکتہ یہ ہے کہ میدانِ جنگ میں دشمن کو شکست دینا، جو ایک بیرونی اور نظر آنے والا حریف ہے، نسبتاً آسان کام تھا۔ اصل اور مشکل ترین جنگ انسان کی اپنے نفس (اندرونی دشمن) کے خلاف ہے۔ یہ نفس، جو انسان کے اندر چھپا بیٹھا ہے، ظاہری دشمنوں سے کہیں زیادہ طاقتور، مکار اور تباہ کن ہے۔
اس شعر کے بعد رومی نفس کو ایک ایسے اژدھے سے تشبیہ دیتے ہیں جس کی پیاس سات سمندر پی کر بھی نہیں بجھتی اور جو ہمیشہ ”ھل من مزید“ (کیا کچھ اور ہے؟) کی صدا لگاتا رہتا ہے۔ لہٰذا، اصل روحانی معرکہ بیرونی فتوحات کے بعد شروع ہوتا ہے، اور یہ اپنے نفس پر قابو پانے کا جہاد ہے۔
- شهان
- شاہ کی جمع؛ بادشاہان۔ یہاں مراد روحانی سردار یا بلند مرتبہ اصحاب ہیں۔
- خصم
- دشمن، حریف، مخالف۔
- برون
- باہر، بیرونی، ظاہری۔
- زو بتر
- اُس سے بدتر، اُس سے زیادہ خراب۔
- اندرون
- اندر، باطن، اندرونی حصہ۔
这句诗说,战胜外部的敌人(如战场上的对手)相对容易,但真正的挑战是战胜自己内心的敌人——即“自我”或“私欲”(nafs)。
这句诗出自一个故事,先知穆罕默德与他的同伴们刚从一场艰苦的战役中归来。他们宣告胜利,但先知提醒他们,这只是“小圣战”(جهاد اصغر, jihād-i aṣghar)。现在,他们必须转向“大圣战”(جهاد اکبر, jihād-i akbar)——与自己内心欲望的斗争。
鲁米借此典故,将诗中凯旋的战士之言戏剧化:“哦,君王们(指先知或精神领袖),我们已征服了外敌!”这是一种自豪的宣告,但紧接着的第二句便是一个警示:一个“更坏的”(بتر)敌人潜伏在“内部”(اندرون)。这个内在的敌人,即“自我”或“私欲”(نفس, nafs),比任何有形的军队都更强大、更狡猾。
在鲁米接下来的诗句中,他将这个内在的敌人描绘成一头无法被理智与聪明才智所降服的雄狮(M1:1380),甚至是一个吞噬七海也无法满足的、名为地狱的巨龙(M1:1381-82)。因此,这句诗不仅是对一个历史故事的转述,更是苏菲思想的核心教义:真正的灵性修行始于向内看,征服那潜藏于每个人心中的、永不满足的“自我”。这才是最伟大、最艰难的战斗。
- شهان
- “شاه”(国王、君主)的复数形式。在此处,战士们以此尊称先知穆罕默德,意为“君王们”或“伟大的领袖”。
- خصم
- (源自阿拉伯语)敌人,对手。
- برون
- 外部,外面。与“اندرون”(内部)相对。
- بتر
- 更坏的,更糟的。“بد”(坏)的比较级形式。
- اندرون
- 内部,里面。在此特指人的内心或灵魂深处。
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.