پڑھیے› دفتر ۱› حصہ ۱۳۷ → پچھلا · اگلا ←
بخش ۱۳۷ - حکایت ماجرای نحوی و کشتیبان
نحوی اور کشتی بان کی کہانی
- M1:2843 آن یکی نحوی به کشتی در نشسترو به کشتیبان نهاد آن خودپرست ایک نحوی کشتی میں جا بیٹھااور اُس خود پرست نے ملاح کا رخ کیاایک مغرور عالم (نحوی) کشتی میں سوار ہوا اور ملاح کی طرف متوجہ ہو کر اس سے بات کرنے لگا۔
- M1:2844 گفت هیچ از نحو خواندی گفت لاگفت نیم عمر تو شد در فنا اُس نے پوچھا، ”کچھ علمِ نحو بھی پڑھا ہے؟“ وہ بولا، ”نہیں“کہا، ”پھر تو تیری آدھی زندگی فنا ہو گئی“ایک مغرور عالم (نحوی) نے ملاح سے پوچھا کہ کیا اس نے قواعد (گرامر) کا علم سیکھا ہے، اور جب ملاح نے نفی میں جواب دیا تو عالم نے کہا کہ اس کی آدھی زندگی برباد ہو گئی۔
- M1:2845 دلشکسته گشت کشتیبان ز تابلیک آن دم کرد خامش از جواب ملاح کا دل تو غم سے ٹوٹ گیا، اُس کی بات کی سوزش سے،لیکن اُس لمحے وہ جواب دینے سے خاموش ہی رہا۔نحوی کی مغرور اور توہین آمیز بات سے ملاح کا دل بہت دکھی ہوا، لیکن اس نے اُس وقت غصے یا دکھ کا اظہار کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لی۔
- M1:2846 باد کشتی را به گردابی فکندگفت کشتیبان بدان نحوی بلند ہوا نے کشتی کو اک بھنور میں پھینک دیا،پھر ملاح نے اُس نحوی سے با آوازِ بلند کہا:جب ایک تیز ہوا نے کشتی کو بھنور میں پھنسا دیا تو ملاح نے بلند آواز میں اُس مغرور ماہرِ صرف و نحو سے مخاطب ہو کر بات کی۔
- M1:2847 هیچ دانی آشنا کردن بگوگفت نی ای خوشجواب خوبرو کہو، کیا تمھیں تیرنا بھی ہے آتا؟کہا، 'نہیں، اے خوبرو، خوش کلام!'کشتیبان نے نحوی سے پوچھا، 'کیا تم تیرنا جانتے ہو؟' نحوی نے جواب دیا، 'نہیں، اے حسین اور خوش گفتار شخص۔'
- M1:2848 گفت کل عمرت ای نحوی فناستزانک کشتی غرق این گردابهاست کہا کل عمر تیری، اے نحوی، فنا ہےکہ کشتی ان بھنوروں میں ڈوبنے کو ہےکشتی بان نے نحوی سے کہا کہ تمہاری پوری زندگی بیکار گئی، کیونکہ تمہارا سطحی علم زندگی کے حقیقی خطرات کے سامنے بے فائدہ ہے اور اب جان بچانے کا کوئی ہنر تمہیں نہیں آتا۔ ❋
- M1:2849 محو میباید نه نحو اینجا بدانگر تو محوی بیخطر در آب ران یہاں محو درکار ہے، نہ کہ نحو، یہ جان لے تُوگر تُو محو ہے تو بے خطر پانی میں چل تُویہاں (یعنی روحانی سفر میں) خود کو مٹانا (محو) ضروری ہے، نہ کہ صرف و نحو کا علم؛ اگر تُو حقیقت میں اپنی ہستی مٹا چکا ہے تو وجود کے دریا میں بے خوف و خطر غوطہ زن ہو جا۔ ❋
- M1:2850 آب دریا مرده را بر سر نهدور بود زنده ز دریا کی رهد سمندر کا پانی مُردے کو سر پر اٹھاتا ہےاور جو زندہ ہو، وہ بھلا سمندر سے کب بچ پاتا ہےسمندر کی فطرت ہے کہ وہ لاش کو اوپر اچھال دیتا ہے اور اُسے عزت سے اٹھائے رکھتا ہے، جبکہ زندہ شخص کو اپنی گہرائیوں میں کھینچ لیتا ہے جہاں وہ جدوجہد کرتا ہے۔
- M1:2851 چون بمردی تو ز اوصاف بشربحرِ اسرارت نهد بر فرق سر جب تو مر جائے بشری اوصاف سےاسرار کا سمندر تجھے سر پہ اُٹھا لے گاجب تم اپنی انسانی صفات اور انا کو فنا کر دو گے، تو معرفت اور اسرارِ الٰہی کا سمندر تمہیں عزت اور قبولیت کے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچا دے گا۔
- M1:2852 ای که خلقان را تو خر میخواندهایاین زمان چون خر برین یخ ماندهای اے کہ تُو مخلوق کو گدھا کہتا تھا،اب تُو خود گدھے کی طرح اِس برف پر پھنس گیا ہے۔اے وہ شخص جو اپنے علم کے گھمنڈ میں دوسروں کو حقیر سمجھتا تھا، دیکھ اب تُو خود کیسی بے بسی اور لاچاری کی حالت میں گرفتار ہے۔
- M1:2853 گر تو علامه زمانی در جهاننک فنای این جهان بین وین زمان گر تو ہے علامۂ دوراں جہاں میںدیکھ اِس دنیا کی اور اِس آن کی فنا کوتمہاری تمام دنیاوی اور رسمی علمیت بے کار ہے اگر تم اس حقیقت کو نہیں دیکھتے کہ یہ دنیا اور اس کا ہر لمحہ فنا ہو رہا ہے۔
- M1:2854 مرد نحوی را از آن در دوختیمتا شما را نحوِ محو آموختیم ہم نے اُس نحوی کو اِسی لیے غرق کر دیا،تاکہ تمہیں نحوِ محو سکھا سکیں۔مولانا نحوی اور کشتی بان کی حکایت سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اس قصے کو بیان کرنے کا حتمی مقصد حقیقت میں فنا اور گم ہو جانے کا فن سکھانا ہے، نہ کہ محض الفاظ اور ظواہر کے قواعد (نحو)۔ ❋
- M1:2855 فقهِ فقه و نَحوِ نحو و صَرفِ صرفدر کم آمد یابی ای یار شگرف فقہ کی بھی فقہ، اور نحو کی بھی نحو، اور صرف کی بھی صرفاے میرے عالی دوست، تُو انہیں کمتر ہی پائے گااے دوست، فقہ، نحو اور صرف جیسے ظاہری علوم اپنی انتہا پر پہنچ کر بھی اُس علمِ باطن کے مقابلے میں ہیچ اور کمتر ثابت ہوتے ہیں جس کی اب ضرورت ہے۔
- M1:2856 آن سبوی آب، دانشهای ماستوان خلیفه دجلهٔ علم خداست پانی کا وہ کوزہ، ہمارے سارے عِلم ہیںاور وہ خلیفہ، خُدا کے عِلم کا دجلہ ہےہمارے تمام حاصل کردہ علوم پانی کے ایک کوزے کی مانند ہیں، جبکہ خدا کا علم ایک عظیم دریا (دجلہ) کی طرح ہے۔
- M1:2857 ما سبوها پر به دجله میبریمگرنه خر دانیم خود را، ما خریم ہم اپنے بھَرے صراحی دجلہ پہ لیے جاتے ہیںگر خود کو گدھا نہ جانیں، تو ہم ہی گدھے ہیںہم اپنا محدود علم خدا کے لامحدود علم کے سامنے پیش کرتے ہیں؛ اگر ہم ایسا کرتے ہوئے اپنی حیثیت کو حماقت نہ سمجھیں، تو ہم واقعی احمق ہیں۔
- M1:2858 باری اعرابی بدان معذور بودکو ز دجله غافل و بس دور بود مگر وہ اعرابی اس بات میں معذور تھاکہ وہ دجلہ سے غافل اور بہت ہی دور تھاالبتہ، وہ بدو (اعرابی) اپنے اس عمل میں قابلِ معافی تھا کیونکہ وہ دریائے دجلہ کے وجود سے بےخبر تھا اور اس سے بہت فاصلے پر رہتا تھا۔
- M1:2859 گر ز دجله با خبر بودی چو مااو نبردی آن سبو را جا بجا اگر وہ بھی ہماری طرح دریائے دجلہ سے واقف ہوتاتو اُس مشکیزے کو یوں جگہ جگہ اُٹھائے نہ پھرتااگر وہ بدو بھی ہماری طرح خدا کے علم کے سمندر (دجلہ) سے باخبر ہوتا، تو وہ اپنے محدود علم کے مشکیزے کو اتنی اہمیت نہ دیتا اور اسے ہر جگہ ساتھ لے کر نہ گھومتا۔
- M1:2860 بلک از دجله چو واقف آمدیآن سبو را بر سر سنگی زدی بلکہ اگر وہ بھی دریائے دجلہ سے واقف ہو جاتاتو اپنے اُس مشکیزے کو کسی پتھر پر دے مارتااگر اُس شخص کو بھی خدا کے لامحدود علم کا ادراک ہو جاتا، تو وہ اپنے محدود اور جزوی علم کو حقارت سے ترک کر دیتا۔