閱讀› 卷 2› 真主責備穆薩(願他平安)為了那位牧羊人› 詩聯 1758
M2:1758 — من نگردم پاک از تسبیحِشان / پاک هم ایشان شوند و دُرفِشان
M2:1758
含義 · به زبانِ تو — 您的語言 · AI
خدا فرماتا ہے کہ مخلوق کی حمد و ثنا سے میری پاکیزگی میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا، بلکہ عبادت کرنے سے وہ خود ہی پاک صاف اور قیمتی ہو جاتے ہیں۔
یہ شعر حضرت موسیٰ اور چرواہے کے مشہور قصے میں خدا کے کلام کا حصہ ہے۔ حضرت موسیٰ نے ایک چرواہے کو خدا سے بے تکلفی اور بظاہر غیر مہذب انداز میں باتیں کرتے ہوئے سنا تو اسے سخت ڈانٹا۔ اس پر خدا نے حضرت موسیٰ پر عتاب فرمایا اور سمجھایا کہ عبادت کا اصل مقصد ظاہری الفاظ اور آداب نہیں، بلکہ دل کی سچائی اور محبت ہے۔
اس شعر میں خدا اسی نکتے کی وضاحت کر رہا ہے کہ عبادت اور تسبیح کی ضرورت خدا کو نہیں، بندے کو ہے۔ خدا تو ہر تعریف اور پاکی کے تصور سے بھی پاک اور بلند ہے۔ جب بندے، جیسے کہ وہ سادہ دل چرواہا، اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں خدا کو یاد کرتے ہیں تو اس سے خدا کی شان میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی۔
اس عمل کا فائدہ خود عبادت کرنے والے کو پہنچتا ہے۔ ان کی تسبیح انہیں اندر سے پاک کرتی ہے، ان کے باطن کو صاف کرتی ہے، اور ان کے وجود کو موتی بکھیرنے والے (دُرفِشان) یعنی قیمتی اور روشن بنا دیتی ہے۔ مولانا رومی یہاں یہ واضح کر رہے ہیں کہ عبادت کا مقصد خود کو سنوارنا اور روحانی طور پر ترقی کرنا ہے، نہ کہ خدا کی کسی ضرورت کو پورا کرنا۔
- دُرفِشان
- موتی بکھیرنے والا، قیمتی بنانے والا۔ یہاں مراد ہے کہ عبادت سے انسان کا باطن قیمتی اور منور ہو جاتا ہے۔
- تسبیحِشان
- اُن کی تسبیح، اُن کی پاکی بیان کرنا۔ یہاں 'شان' (اُن) سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو اپنی سادہ زبان اور مخصوص انداز میں خدا کو یاد کرتے ہیں، جیسے وہ چرواہا۔
خداوند به ستایش بندگان نیازی ندارد؛ این عبادت و ستایش است که خودِ انسان را پاکیزه و متعالی میسازد و جوهر وجودیاش را شکوفا میکند.
این بیت در ادامهٔ پاسخ خداوند به موسی (ع) است که چوپانی را به خاطر نیایش ساده و عاشقانهاش سرزنش کرده بود. خداوند به موسی یادآوری میکند که ذات او بینیاز مطلق است و با تسبیح و ستایش آفریدگان، چیزی به کمال او افزوده نمیشود. در واقع، این عبادت و نیایش، هرچند در ظاهر ساده و حتی خطاآمیز باشد، وسیلهای برای رشد و پالایش خودِ بنده است.
تعبیر «دُرفشان» (گوهرافشان) تصویری زیبا از این تحول درونی است. وقتی انسان با صداقت و از صمیم قلب به ستایش معبود میپردازد، دهان و جانش کلماتی ارزشمند همچون مروارید میپراکند. این عمل، روح او را صیقل میدهد و او را پاک و ارزشمند میسازد. بنابراین، هدف از عبادت، سود رساندن به خدا نیست، بلکه بخشایشی (جودی) از سوی خداست تا بندگان از طریق آن به کمال برسند.
- تسبیح
- پاک و منزه دانستن خدا، ستایش، نیایش
- دُرفِشان
- گوهرافشان، کسی که مروارید میپراکند، کنایه از سخنان ارزشمند و گرانبها گفتن
討論 — 就此詩節提問——答案源自《瑪斯納維》,每節詩句皆有引證
除非您分享,否則您的對話僅會留在此裝置上。
讀者們的提問0
尚無分享的提問——您的提問或可為濫觴。