پڑھیے› دفتر ۱› حصہ ۲ → پچھلا · اگلا ←

بخش ۲ - عاشق شدن پادشاه بر کنیزک رنجور و تدبیر کردن در صحت او

بادشاہ کا بیمار کنیزک پر عاشق ہونا اور اس کی صحت کے لیے تدبیر کرنا

  1. M1:35 بشنوید ای دوستان این داستانخود حقیقت نقدِ حالِ ماست آن سنو اے دوستو، یہ داستانکہ یہ خود ہمارے حال کی نقدِ حقیقت ہےمولانا اپنے دوستوں کو دعوت دیتے ہیں کہ اس داستان کو دل کے کانوں سے سنیں، کیونکہ وہ اسے اپنے—اور تمام سالکینِ حق کے—روحانی احوال کی سچی اور بے کم و کاست عکاسی سمجھتے ہیں۔ ❋
  2. M1:36 بود شاهی در زمانی پیش ازینملک دنیا بودش و هم ملکِ دین تھا کسی گزرے زمانے میں کوئی شاہکہ حاصل تھا اُسے مُلکِ دنیا و دیںیہ بیت ایک ایسے بااختیار بادشاہ کا تعارف کراتا ہے جسے دنیاوی سلطنت اور روحانی اقتدار دونوں حاصل تھے، اور یہ مولانا کی تمثیلی حکایت کا آغاز ہے۔ ❋
  3. M1:37 اتّفاقا شاه روزی شد سواربا خواص خویش از بهر شکار ہوا اِک روز وہ شاہ اتفاقاً سوارخواصِ خویش کے ہمراہ بہرِ شکاریہ شعر مثنوی کی ایک مرکزی کہانی کا آغاز ہے، جس میں ایک بادشاہ شکار کے لیے نکلتا ہے اور پھر ایک زمینی عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے—یہ قصہ مولانا کی گہری صوفیانہ اور فلسفیانہ تعلیمات کا ذریعہ بنتا ہے۔ ❋
  4. M1:38 یک کنیزک دید شه بر شاه‌راهشد غلام آن کنیزک پادشاه اک کنیزک شاہ نے دیکھی سرِ راہگزراور اُسی دم ہو گیا شاہ اُس کنیزک کا اسیریہ بیت ایک ایسی حکایت کا آغاز ہے جس میں ایک بادشاہ، ایک کنیزک کو دیکھتے ہی فوراً اس پر عاشق ہو جاتا ہے اور اپنا اختیار کھو بیٹھتا ہے۔ ❋
  5. M1:39 مرغ جانش در قفس چون می‌طپیدداد مال و آن کنیزک را خرید جب جان کا پنچھی قفس میں پھڑپھڑایا،اُس نے مال دے کر اُس کنیز کو خرید لیا۔یہ شعر بیان کرتا ہے کہ بادشاہ کی کنیز کے لیے شدید تڑپ نے اُسے اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اپنی تمام دولت خرچ کر کے اُسے حاصل کر لے۔ ❋
  6. M1:40 چون خرید او را و برخوردار شدآن کنیزک از قضا بیمار شد جب خرید کر اُسے وہ کامران ہُواقضا سے وہ کنیزک ناتوان ہوئیجب بادشاہ نے اُس کنیز کو خرید لیا اور اُس کی صحبت سے لطف اندوز ہونے لگا، تو تقدیر کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ کنیز بیمار پڑ گئی۔ ❋
  7. M1:41 آن یکی خر داشت، پالانش نبودیافت پالان گرگ خر را در ربود تھا کسی کے پاس گدھا، پر پالان نہ تھاپالان جو مِلا تو گدھے کو بھیڑیا اُٹھا لے گیایہ بیت ایک ضرب المثل کے انداز میں بیان کرتا ہے کہ ایک آرزو کے پورا ہونے پر اکثر کوئی دوسری شے ہاتھ سے چلی جاتی ہے، اور اس دنیا میں کبھی بھی تمام خواہشات ایک ساتھ پوری نہیں ہوتیں۔ ❋
  8. M1:42 کوزه بودش آب می‌نامد بدستآب را چون یافت خود کوزه شکست اُس کے پاس کوزہ تو تھا، پر ہاتھ نہ آتا تھا پانیجب پانی مِل گیا تو خود کوزہ ہی ٹوٹ گیایہ شعر دُنیاوی خواہشات کی فطری نامرادیوں اور تضادات کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں اکثر ایک چیز کے حصول پر کوئی دوسرا اہم عُنصر کھو جاتا ہے یا فنا ہو جاتا ہے۔ ❋
  9. M1:43 شه طبیبان جمع کرد از چپّ و راستگفت جان هر دو در دست شماست شاہ نے ہر سُو سے طبیبوں کو جمع کیاکہا، ”ہم دونوں کی جاں اب تمہارے ہاتھ میں ہے“بادشاہ نے ہر طرف سے ماہر طبیبوں کو اکٹھا کیا اور اُن سے کہا کہ میری اور اس کنیز (میری محبوبہ) دونوں کی زندگی اب آپ کے سپرد ہے۔
  10. M1:44 جان من سَهلست جان جانم اوستدردمند و خسته‌ام درمانم اوست میری جاں سہل ہے، وہ تو جانِ جاں ہے میریمیں کہ ہوں درد کا مارا، وہ درماں ہے میریبادشاہ طبیبوں سے کہتا ہے کہ میری اپنی جان کی کوئی قیمت نہیں، اصل جان تو وہ (کنیز) ہے۔ میں بیمار اور زخمی ہوں اور میرا علاج وہی ہے۔
  11. M1:45 هر که درمان کرد مَر جان مرابرد گنج و دُرّ و مَرجانِ مرا جو کوئی میری جان کا درماں کرے گاوہ میرا گنج، میرے دُر و مرجاں لے جائے گابادشاہ اپنے جمع کردہ طبیبوں سے وعدہ کرتا ہے کہ جو شخص بھی اس کی محبوب کنیز (جسے وہ اپنی جان کہتا ہے) کا علاج کرے گا، وہ اسے اس کے بدلے میں میرے تمام خزانے، موتی اور مونگے انعام میں لے جائے گا۔
  12. M1:46 جمله گفتندش که جانبازی کنیمفهم گِرد آریم و انبازی کنیم سب نے مل کر عرض کی، ”ہم جان کی بازی لگا دیں گے،اپنی ساری سمجھ بوجھ اور علم کو یکجا کر دیں گے۔“بادشاہ کی فریاد سُن کر، تمام طبیبوں نے بڑے اعتماد سے جواب دیا کہ وہ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر، اپنی تمام تر دانش اور فہم کو اکٹھا کر کے اس کنیز کا علاج کرنے میں شریک ہوں گے۔
  13. M1:47 هر یکی از ما مسیح عالِمیستهر الم را در کفِ ما مرهمیست ہم میں سے ہر ایک اپنے جہاں کا مسیحا ہےہمارے ہاتھ میں ہر ایک درد کی دوا ہےبادشاہ کے جمع کردہ طبیبوں نے بڑے غرور سے دعویٰ کیا کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے علم و فن میں عیسیٰؑ کی طرح مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، اور ہمارے پاس ہر بیماری کا علاج موجود ہے۔
  14. M1:48 «گر خدا خواهد» نگفتند از بطرپس خدا بنمودشان عجز بشر اُنہوں نے تکبّر سے ’’گر خدا خواهد‘‘ (ان شاء اللہ) نہ کہاپس خدا نے اُن پر بشر کی بے بسی عیاں کر دیبادشاہ کے طبیبوں نے اپنے علم اور قابلیت کے گھمنڈ میں یہ نہ کہا کہ ’’اگر خدا نے چاہا تو ہم علاج کر دیں گے‘‘، لہٰذا خدا نے اُنہیں اُن کی انسانی بے بسی اور عاجزی دکھا دی۔
  15. M1:49 ترک استثنا مُرادم قَسوتی‌ستنه همین گفتن که عارِض حالتی‌ست استثنا چھوڑنے سے میری مراد دل کی سختی ہےنہ کہ صرف یہ کہنا، کہ یہ تو ایک عارضی کیفیت ہےجب میں کہتا ہوں کہ طبیبوں نے 'ان شاء اللہ' نہیں کہا، تو میرا مطلب اُن کے دلوں کی سختی اور غرور ہے، نہ کہ محض اِن الفاظ کا زبان سے ادا نہ کرنا۔
  16. M1:50 ای بسا ناورده اِستثنا به گُفتجان او با جانِ استثناست جفت کتنے ہی ہیں جو زباں سے ’اِن شاء اللہ‘ نہیں کہتے،پر اُن کی جاں تو ’اِن شاء اللہ‘ کی جاں سے ملی ہوتی ہےبہت سے لوگ ایسے ہیں جو زبانی طور پر ’’اِن شاء اللہ‘‘ نہیں کہتے، لیکن اُن کی روح اور باطن پوری طرح خدا کی رضا اور مشیئت کے تابع ہوتے ہیں۔
  17. M1:51 هرچه کردند از علاج و از دواگشت رنج افزون و حاجت ناروا جو کچھ بھی کی تدبیرِ علاج اور دوارنج اور بڑھا، حاجت بھی ہوئی نارواطبیبوں کی تمام تر کوششوں اور طرح طرح کی دواؤں کے باوجود، کنیز کا مرض بہتر ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا اور اس کی شفا یابی کی آرزو پوری نہ ہو سکی۔ ❋
  18. M1:52 آن کنیزک از مرض چون موی شدچشم شه از اشکِ خون چون جوی شد وہ کنیزک مرض سے ہو گئی مانندِ مُوچشمِ شہ اشکِ خوں سے بن گئی اِک آبجُویہ بیت کنیزک کی حالت کی انتہائی خرابی اور بادشاہ کی گہری مایوسی کو ظاہر کرتا ہے؛ تمام علاجوں کے بے اثر رہنے پر کنیزک کی بیماری بڑھتی چلی گئی۔ ❋
  19. M1:53 از قضا سرکنگبین صَفرا فزودروغن بادام خشکی می‌نمود قضا سے سکنجبین نے اور صفرا کو بڑھایا،روغنِ بادام نے خشکی کا ہی جلوہ دکھایا۔اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات دوائیں علاج کرنے کے بجائے بیماری کو مزید بڑھا دیتی ہیں، اور ظاہری اسباب امید کے برعکس نتیجہ دیتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ فطری علیت (causality) کا نظام ٹوٹ گیا ہے۔ ❋
  20. M1:54 از هلیله قبض شد‌، اطلاق رفتآب آتش را مدد شد همچو نَفت ہلیلہ سے قبض ہوا، دست آوری جاتی رہیپانی آگ کے لیے تیل کی طرح مددگار بن گیااس شعر میں بتایا جا رہا ہے کہ بعض اوقات، عام اسباب الٹا اثر دکھاتے ہیں؛ دوا بیماری کو بڑھا دیتی ہے اور پانی آگ کو مزید بھڑکا دیتا ہے۔ ❋